میں اگلے مہینے عمرہ کرنے جارہا ہوں، مجھے اس سلسلہ میں ایک مسئلہ پوچھنا ہے وہ یہ کہ میرا پیٹ خراب رہتا ہے اور مجھے ریح کی شکایت ہے اور یہ پورا دن خارج ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے میرا وضو قائم نہیں رہتا، اب مجھے یہ فکر ہے کہ طواف کے درمیان وضو ٹوٹنے پر طواف دوبارہ شروع کرنا ہوتا ہے دوبارہ وضو کرکے اب اس صورتحال میں طواف اور عمرہ کس طرح ادا کروں؟ برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں، کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اور نماز کا بھی بتادیں کہ کیا کرنا ہوگا؟
مذکور بیماری کے دوران سائل کو اگر کبھی کسی ایک نماز کے وقت اتنا وقت بھی نہ ملا ہو کہ پورے وقت میں وضو کرکے محض فرض نماز ادا کرسکے تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کہلائے گا اور اس پر نماز کے پورے وقت کیلیے صرف ایک بار وضو کرنا لازم ہوگا جس سے وہ اس نماز کے وقت تمام قسم کی عبادت کا اہتمام کرسکے گا اور اس دوران مذکور عذر کی وجہ سے اس کا وضو بھی نہیں ٹوٹے گا اس وضو سے وہ طواف بھی کرسکتا ہے، دورانِ طواف بھی مذکور عذر کی بناء پر وضو نہیں ٹوٹے گا۔
ففی البحر الرائق: (قوله وتتوضأ المستحاضة ومن به سلس بول او استطلاق بطن أو انفلات ریح او رعاف دائم او جرح لا یرقا لوقت كل فرض) اھ(۱/۲۱۵)
وفی الفقه الإسلامی: ضابط المعذور هو فی ابتداء الامر من یستوعب عذره تمام وقت صلوة مفروضة بان لا یجد فی جمیع وقتها زمنًا یتوضا ویصلی فیه خالیًا عن الحدث اھ (1/288)