میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایک محاورہ ہے، ہر انسان خطاء یعنی غلطی کا پتلا ہے، نبی تو معصوم ہوتا ہے، لیکن ان کے علاوہ ’’نیک لوگ، صحابہ کرام اور گزرے ہوئے بزرگانِ دین‘‘ کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟
انبیاء کرام معصوم اور صحابہ کرام بنصِ قرآن و حدیث مغفور ہیں، جبکہ اولیاء و بزرگانِ دین سے اگرچہ خطا وگناہ سرزد ہوجاتے ہیں، مگر وہ توبہ واستغفار کی بناء پر اُن کے ذمہ میں باقی نہیں رہتے، جبکہ کسی بزرگ شخصیت سے گناہ کا سرزد ہوجانا ولایت کے منافی بھی نہیں۔
وفی شرح العقائد النسفية: الانبیاء معصومون مامونون عن خوف الخاتمة مکرمون بالوحی ومشاهدة الملك مامورون بتبلیغ الاحکام وارشاد الانام بعد الاتصاف بکمالات الاولیاء اه (ص165)
وفیه ایضًا: وسائر الصحابة لا یذکرون الا بخیر ویرجی لہم اکثر مما یرجی لغیرهم من المومنين ولا نشهد بالجنة والنار لاحد بعينه بل نشهد بان المومنين من اهل الجنة والكافرين من اهل النار اه(ص164) والله اعلم بالصواب!
حضرت تھانویؒ، حضرت گنگوہی اور حاجی امداد اللہ صاحبؒ کو بریلوی کہہ کر ان کی کتابیں پڑھنے سے منع کرنا
یونیکوڈ اکابر حضرات" 1