السلام علیکم! مفتی صاحب میں نے ستائیس رمضان کو عمرہ کیا تھا، گرمی اور رش کی وجہ سے میں نے حلق کی بجائے صرف تقصیر کروائی، اس طرح کہ ایک آدمی قینچی لےکر کھڑا تھا ، اس نے اُنگلی کے ایک پورے کے برابر چاروں کونوں سے بال کاٹ دیئے، ہیئر ڈریسر کی ہر دکان پر تقریباًسو ڈیڑھ سو لوگوں کا رش تھا، میں نے اس لیے ایسا کیا، کیا مجھ پر دم تو نہیں آیا ؟ میں حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں ۔
اگر چاروں طرف سے کٹوتی مجموعی طور پر چوتھائی سر کے بقدر بن گئی ہو تو اس کی وجہ سے دم لازم نہیں، اور اگر اس سے کم ہو تو دم لازم ہوگا ۔
کما فی الہندیة : (وأما واجباتها) فالسعي بين الصفا والمروة والحلق أو التقصير كذا في محيط السرخسي. اھ (1/237)۔
و فیھا أیضاً : وفي البدائع قالوا يجب أن يزيد في التقصير على قدر الأنملة إذ أطراف الشعر غير متساوية عادة فوجب أن يزيد على قدر الأنملة حتى يستوفي قدر الأنملة في التقصير يقينا، كذا في غاية السروجي شرح الهداية.اھ (1/231)۔