میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی آدمی کسی سے قرض رقم لے لے،اور دوسرا شخص (دائن) کہیں جا چکا ہوں ،اور جس شخص نے رقم وصول کی ہے، اس کو وہ مل نہ سکے ،حتی کہ اس کے گھر والوں کا بھی علم نہ ہو تو اب کیا کیا جانا ہے ؟
مقروض شخص پر لازم ہے کہ وہ قرض خواہ کو تلاش کر کے اس کی رقم اس تک پہنچا دے، اگر قرض خواہ یا اس کا کوئی وارث با وجود تتبع و تلاش کے نہ ملے ،تو اس صورت میں اس رقم کو مالک کی طرف سے صدقہ کرے ،تاکہ مواخذۂ اخروی سے سبکدوشی ہو سکے۔
كما فى الدر المختار: (عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) اھ (4/ 283)۔
قال في حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. (إلی قوله) تحت (قوله: فعليه التصدق بقدرها من ماله) (إلی قوله) وإن لم يجد المديون ولا وارثه صاحب الدين ولا وارثه فتصدق المديون أو وارثه عن صاحب الدين برئ في الآخرة. اھ (4/ 283)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0