میں نے علماء اہلسنت والجماعت کے علماء کرام سے سنا ہے کہ کچھ شرائط اور پابندی کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ سے کسی بھی بزرگ شخصیت کے وسیلہ سے دعا مانگ سکتے ہیں، برائے مہربانی مجھے کچھ احادیث اس سے متعلق بتائیں جو وسیلہ کو ثابت کرتی ہو، اور یہ بھی بتائیں کہ کیا وسیلہ اور صدقہ ایک ہی چیز ہیں؟ اور یہ بھی بتائیں کہ وہ کون سی شرائط ہیں جو وسیلہ کو جائز کرتی ہیں؟ جزاک اللہ خیراً!
انبیاء و اولیاء کرام کے توسل سے دعا مانگنا، اعمالِ صالحہ جن میں صدقہ بھی شامل کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز اور احادیثِ مبارکہ اور سلفِ صالحین کے تعامل سے ثابت ہےو مگر واضح ہو کہ کسی بزرگ شخصیت یا اعمالِ صالحہ کے توسل سے دعا مانگنا نہ تو لازم ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے دعا کا قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم آتا ہے، جیسا کہ بعض جہال کا عقیدہ ہے اس قسم کے عقائد اختیار کرنے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی تفسیر روح المعانی: ویھسن التوسل والاستغاثة بالنبی ﷺ الی ربه ولم ینکرا احد من السلف والخلف (الی قوله) ان التوسل بجاہ غیر النبی ﷺ لا بأس به ایضًا ان کان التوسل بجاهه مما علم ان له اجاهًا عند اللہ۔ (ج۶، ص۱۲۶ - ۱۲۸)
وفی سنن الترمذی: عن عثمان بن حنیفؓ: ان رجلًا اتی النبی ﷺ فقال: ادع اللہ ان یعافینی فقال ان شئت دعوت وان شئت صبرت فهو خیر لك قال فادعه قال فامرہ ان یتوضأ ویدعو بهذہ الدعاءِ ’’اللهم انی اسألك واتوجه الیك بنیك محمد نبی الرحمة انی توجهت بك الی ربی فی حاجتی هذہ لتقضی لی اللّٰهم فتشفعه فی۔ (ج۲، ص۱۹۸)
وفی صحیح البخاری: ان عمر بن الخطاب کان اذا قحطوا استسقٰی بالعباس بن عبد المطلب فقال: اللّٰهم انا کنا نتوسل الیك بنبینا فتسقینا وانا کنا نتوسل الیك بعم بنینا فاسقنا۔ (ج۱، ص۵۲۶) واللہ اعلم بالصواب!