السلام علیکم!
اگر ایک شہر میں ہے جس میں مستقل رہائش ہے اور دوسرا اپنا گھر دوسرے شہر میں، جب کسی کام سے جاتے ہیں تو وہاں رہتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ نماز کون سی ہوگی، قصر یا پوری نماز ؟
دوسرے شہر میں محض گھر خریدنے سے وہ وطنِ اصلی نہیں بنا، اس لئے اگر اس میں ۱۵ یوم سے کم ٹھہرنے کی نیت سے جائیں گے تو وہاں چار کعت والی نماز میں قصر کرنی ہوگی ، ہاں اگر اس دوسری جگہ کو بھی وطن اصلی بنائے اس طرح کہ وہاں شادی کر لے تو دونوں جگہ پوری نماز پڑھنی لازم ہوگی۔
فی حاشية ابن عابدين : و لو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما ، فإن ماتت زوجته في إحداهما و بقي له فيها دور و عقار قيل لا يبقى و طنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار اھ (2/ 131)-
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4