میں الائیڈ بینک سے ریٹائرڈ ہوا ہوں، اور بینک نے مجھے ریٹائرمنٹ کے پیسے دیے، کیا میں ان پیسوں سے حج یا عمرہ ادا کر سکتا ہوں ؟ جواب جلد عنایت فرمائیں۔
مذکور بینک کا بیشتر کاروبار چونکہ سود پر مبنی ہے، اس لئے سائل کی ملازمت کی نوعیت اگر ایسی تھی کہ جس میں سودی معاملات کرنے پڑتے تھے، تب تو اس رقم سے حج یا عمرہ بجالانے سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر ملازمت کی نوعیت براہ ِراست سودی معاملات کی نہ ہو جیسے ڈرائیور، گارڈ، چپڑاسی وغیرہ کی ملازمت , تو اس صورت میں استعمال کی گنجائش ہو سکتی ہے ۔
ففي تكملة فتح الملھم: فأن كان عمل الموظف في البنك ما يعين على الربا کالكتابة أو الحساب فذلك حرام (إلى قوله) وأما إذا كان العمل لا علاقة له بالربا فأنه حرام للوجه الثاني فحسب فإذا وجد بنك معظم دخله حلال، جاز فيه التوظف للنوع الثانی من الأعمال اھ (۱/ ۲۱۹)۔