قرض

مقروض اور قرض خواہ کے درمیان ہونے والے معاملے کی ایک صورت

فتوی نمبر :
17872
| تاریخ :
معاملات / مالی معاوضات / قرض

مقروض اور قرض خواہ کے درمیان ہونے والے معاملے کی ایک صورت

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس سلسلے کے متعلق کہ فریق اول نے 100 بوری کھاد فریق دوم کو مبلغ 100000 روپے کے عوض فروخت کی اور دونوں فریقین میں یہ طے پایا کہ فریق دوم ادائیگی 6 ماہ بعد کریگا، اور اس معاملے کو تحریر بھی کیا گیا؟ ۶ ماہ بعد فریق اول نے جب رقم کا مطالبہ کیا تو فریق دوم فی الحال ادائیگی کرنے کی پوزیشن میں نہ تھا؟ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے فریق دوم نے فریق اول سے مزید دو ماہ کے ادھار پر 110 بوری کھاد مانگی، فریق اول نے ایک تیسرے فریق یعنی دوکاندار سے 110 بوری مبلغ 105000 روپے کے عوض خریدی، اور فریق دوم کو 6 ماہ مدت کے ادھار پر مبلغ 115000 روپے میں فروخت کردی، فریق اول فریق دوم کو تیسرے فریق یعنی دوکاندار کی دوکان پے لے گیا، اور دوکاندار سے کہہ دیا کہ میں نے یہ 110 بوری کھاد ان کو فروخت کر دی ہے، آپ یہ مال اس کے حوالے کر دیں ؟ دوکاندار نے فریق دوم سے کہا کہ ٹھیک ہے اب یہ مال آپ اٹھا سکتے ہیں، مگر فریق دوم فریق سوم یعنی دوکاندار کو علیحد گی میں لے گئے، اور کہا کہ یہ مال میں آپ کو فروخت کرنا چاہتا ہوں ،دوکاندار نے بھی مال خریدنے میں آمادگی ظاہر کی اور فریق دوم نے یہ 110 بوری مبلغ 100000 روپے کے عوض مال اٹھائے بغیر فروخت کر دی ،اور یہ رقم لیکر فریق دوم نے فریق اول کی سابقہ ادئیگی کر دی ،اور آئندہ کیلئے 110 بوری کیسا تھ مبلغ 115000 کا مقروض ہو گیا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر دوکاندار کیساتھ پہلے سے یہ معاہدہ طے نہیں تھا، تو فریق دوم کا مذکور معاملہ شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔ اب فریق دوم فریق اول کیلئے مبلغ پر 115000 روپے کا مقروض رہ گیا ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كبيع نتاج النتاج والحمل كذا في البدائع وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع اھ (3/ 2)
وفي الهداية شرح البداية: قال والأعراض المشار إليه لا يحتاج إلى معرفة مقدارها في جواز البيع لأن بالإشارة كفاية في التعريف وجهالة الوصف فيه لا تفضي إلى المنازعة (3/ 21) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
آفتاب عبد الغفار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 17872کی تصدیق کریں
0     664
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حرام آمدنی والے سے قرض لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   قرض 4
  • حقوق العباد میں کوتاہی کی تلافی کیسے ممکن ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   قرض 0
  • کیاشہادت کی وجہ سے قرض بھی معاف ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض کس کرنسی میں واپس کرنا ہوگا؟

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مقروض شخص کا کاروبار میں پیسہ لگانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میت پر قرض کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • میزان بینک سے ہوم فائنانس اسکیم کا حصہ بننا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   قرض 1
  • ایزی پیسہ سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 3
  • بچت کمیٹی کی ادائیگی کی تاخیر پر جرمانہ کی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال میں دیا ہوا قرض پاکستانی کرنسی میں واپس کرنے کے مطالبہ کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ایزی پیسہ لون کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 1
  • چائنیز کرنسی میں قرض دیکر پاکستانی کرنسی سے وصول کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے مشروط کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض کی ادائیگی تک دکان کا کرایہ مانگنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • کریڈٹ کارڈ پر واجب الادا قرض نہ لوٹانے کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • مروجہ کرنسی کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • When returning Dirhams obtained, on a later date, What is the rate applicable to repay??

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • قرض کی واپسی کو کسی اور چیز کے ساتھ معلق کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • اولاد باپ کو انکی زندگی میں جو کچھ بھی دے اگر قرض کی تصریح نہ ہو تو اس کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
  • پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں قرض لے کراضافہ کے ساتھ لوٹانا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • ریال کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کر کے قرض دینے کے بعد مقروض سے ریال کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • قرض معاف کرنے کے بعد اس کا تقاضہ کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   قرض 0
  • ساس سسر کا بہو سے حق مہر میں دیا گیا سونا لے کر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   قرض 0
  • عمرہ کمیٹی کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   قرض 0
Related Topics متعلقه موضوعات