مولانا صاحب میں پاکستان میں رہتا ہوں، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم نے کسی کوچار لاکھ( 400000) روپے ادھار دیے ہیں، اور وہ آدمی ان پیسوں کو اپنے کاروبار میں استعمال کرتا ہے ؟ اور منی چینجر کا کام کرتا ہے ؟ اور وہ ہمیں ہر مہینے کچھ منافع دیتا ہے ؟ اور جو پیسے ہم نے اس کو دیے ہیں، وہ ہم کسی بھی وقت واپس لے سکتے ہیں، یہ پیسے فکس نہیں ہے ؟ مولانا صاحب یہ بتادیں کہ یہ اسلام میں جائز ہے کہ نہیں ؟ جائز یا نا جائز ہونے کی وجو ہات بھی پیش کریں ؟
قرض دیکر اس پر مقروض سے نفع لینا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے ، اگرچہ اس کی کوئی مخصوص مقدار نہ ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور معاملہ شرعاً نا جائز اور حرام ہے ،اس سے احتراز لازم ہے۔
لقوله تعالى : ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)-
وفي الدر المختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو (إلى قوله) كل قرض جر نفعاً حرام
وفي حاشية ابن عابدين: مطلب كل قرض جر نفعا حرام قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0