اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے کہ آج کل مرد اور خاص طور پر عورتیں عمرہ کے لیے جاتی ہیں اور حج کرنے کے لیے نہیں جاتی ۔
اگر حج کرنے کی استطاعت ہو تو صرف عمرہ پر اکتفاء کرنا درست نہیں ،بلکہ ایک فریضہ کو چھوڑنے کی وجہ سے بہت گناہ کی بات ہے،ورنہ صرف عمرہ کرنے میں حرج نہیں ۔
کما فی الہدایة : الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاصلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا " وصفه بالوجوب وهو فريضة محكمة ثبتت فرضيته بالكتاب وهو قوله تعالى: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ} [آل عمران: 97] الآية " اھ (1/132)۔