مفتی صاحب! میں نے ابھی کچھ دن پہلے کراچی سے ایبٹ آباد کا سفر کیا ، اور میں بذریعہ بس یہاں سے روانہ ہوا ، تقریباً ۲۷ گھنٹے کا سفر تھا ، ایبٹ آباد اور اس سے ملحقہ علاقے جیسے کاغان ، ناران، مانسہرہ، اسلام آباد وغیرہ میں میرا ارادہ ۱۰ دن قیام کرنے کا تھا اور میں ۱۰ دن میں ہی واپس آ گیا، میں نے ان تمام دنوں میں مکمل نماز پڑھی یعنی قصر نہیں پڑھی اور مؤ کدہ سنتیں بھی ادا کیں ، میرے سوالات یہ ہیں :
(۱) کیا دورانِ سفر مجھے قصر ہی پڑھنی تھی؟ (۲) کیا میری نماز ادا ہو گئی یا پھر مجھے دوبارہ سے اپنی نمازوں کو پڑھنا ہو گا؟ (۳) قصر میں کیا صرف فرض پڑھا جاتا ہے، سنتوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، چاہے مؤکدہ ہوں؟ برائی مہربانی جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔
سائل کو دورانِ سفر قصر پڑھنا لازم تھا، تاہم اگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے پوری پڑھی ہو اور دو رکعات کے بعد تشہد پر بیٹھتا رہا ہو تو پہلی دو فرض، جبکہ دوسری دو رکعات نفل شمار ہوں گی، اب اس کی قضاء کی ضرورت نہیں، جبکہ حالتِ سفر میں اپنی تنہا نماز میں قصر پڑھنا لازم ہے اور اگر وقت ہو تو سنت مؤکدہ بھی پڑھنی چاہیۓ، بلاعذر سنتوں کا چھوڑنا گناہ ہے ،جس سے احتراز لازم ہے۔
في الهداية: و فرض المسافر في الرباعية ركعتان لايزيد عليهما و ان صلی أربعا و قعد في الثانية قدر التشہد اجزأہ الأولیان عن الفرض و الأخریان له نافلة اھ(۱/ ۱۶۶)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4