وضو

کیا مسح فقط چمڑے کے موزوں پر کرنا ضروری ہے؟

فتوی نمبر :
2291
| تاریخ :
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

کیا مسح فقط چمڑے کے موزوں پر کرنا ضروری ہے؟

محترم جناب مفتی صاحب!
مسح چمڑے کے موزوں پر ہی کرنا لازمی ہے؟ اگر جرابیں نماز کے بعد اتاردیں اور وضو کے فوراً بعد پہن لیں اور اس پر مسح کیا جائے تو یہ صحیح ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موزہ پر مسح جائز ہونے کیلئے چمڑے کا ہونا ضروری نہیں بلکہ اس موزے پر مسح جائز ہے جن میں درج ذیل چار صفات پائی جائیں:
(۱)۔ وہ اس قدر موٹا اور گاڑھا ہو کہ اس کو پہن کر تین میل پیدل آسانی سے چلا جاسکے۔
(۲)۔ اُسے پنڈلی پر باندھنے کی ضرور نہ ہو بلکہ خود بخود پنڈلی پر رکا اور جما رہے۔
(۳)۔ان کے موٹا اور گاڑھا ہونے کی بنا پر ان سے پانی بھی نہ چھنتا ہو ۔
چنانچہ وہ عام جورابیں جن میں صفات مذکورہ نہ پائی جاتی ہوں، ان پر مسح کرنا شرعاً درست نہیں۔ بلکہ دوبارہ وضو کرتے وقت انہیں اُتار کر دوبارہ پاؤں دھونا ضروری ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 2291کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات