وضو

دولہا کو سہرا باندھنا - شادی پر ہار پہنانا

فتوی نمبر :
58695
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / وضو

دولہا کو سہرا باندھنا - شادی پر ہار پہنانا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دورِ حاضر میں دولہا کو پھولوں اور روپوں کے ہار ڈالے جاتے ہیں اور سہرا باندھا جاتا ہے۔ شرع میں ان کی کیا حیثیت ہے؟ دلائل کی روشنی میں وضاحت مطلوب ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شادی بیاہ کے ایسے مواقع پر دولہا وغیرہ کو اظہار مسرت کیلئے ہار ڈالنا جائز ہے، البتہ سہرا باندھنا ہندوانہ رسومات سے ہے جس سے مسلمانوں کو احتراز اور ان تقریبات کو موافق سنت کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی المشکوٰۃ: قال رسول اللہ ﷺ من تشبہ بقومٍ فہو منہم رواہ أحمد وأبوداؤد۔ (ج۲، ص۳۷۵)۔
قال صاحب المرقاۃ:أی من شبہ نفسہ بالکفار مثلًا فی اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار أو بأہل التصوف والصلحاء الأبرار (فہو منہم) أی فی الإثم والخیر۔ الخ (ج۸، ص۱۵۵)۔
وفی سنن الترمذی: قال رسول اللہ ﷺ لیس منّا من تشبہ بغیرنا لا تشبھوا بالیھود ولا بالنصاریٰ۔ الخ (ج۲، ص۹۹) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58695کی تصدیق کریں
1     1860
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات