کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جب وضو کر کے نماز ادا کرتا ہوں تو میں اگلی نماز بھی اس وضو سے ادا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے وہم ہوتا ہے کہ وضو نہیں رہا ہے۔ تو کیا اس صورت میں مجھے تازہ وضو کرنا چاہیے یا وہم کے باوجود اس وضو سے اگلی نماز ادا کر لینی چاہیے؟
جب تک وضو کے ٹوٹ جانے کا یقین یا غالب گمان نہ ہوتو محض وہم کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ تاہم اگر دوبارہ وضو کر لیا جائے تو زیادہ بہتر اور رفعِ وہم کا ذریعہ ہے۔
ففی الدر المختار: ولو أيقن بالطهارة وشك بالحدث أو بالعكس أخذ باليقين، ولو تيقنهما وشك في السابق فهو متطهر اھ(1/ 150)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: فهو متطهر) لأن الغالب أن الطهارة بعد الحدث اھ(1/ 150)
وفی الفتاویٰ الهندیة: ومن شك فی الحدث فهو علی وضوئه اھ (۱/۱۳)
و فی المختصر فی الفقه الحنفی: ومن ایقن بانه توضا و شك فی انتقاضه فھو علی وضوئه فان صلی بھذا الوضوء صحت صلاته و الاولی ان یجدد الوضوء اھ (34) واللہ أعلم بالصواب!