السلام علیکم! مفتی صاحب کچھ لوگ مردے کو دفن کرنے کے بعد اذان دیتے ہیں اور پھر مردے کو تلقین کرتے ہیں، جس میں وہ اس کو منکر نکیر کے تین سوالوں کے جواب بتاتے ہیں کہ تمہارا رب کون ہے اور نبی کون ہے اور دین کیا ہے؟ اور یہ کہتے ہیں کہ مردے کو تلقین احادیث سے ثابت ہے اور حضور پاکﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ اپنے مردوں کو تلقین کرو، تفصیل سے جواب عنایت فرما دیں۔
مردے کو دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان کہنا بدعت سیئہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ دفن کے بعد تلقین سے متعلق بعض روایات میں وارد ہے، اس لیے اس معاملہ کو باعث نزاع نہیں بنانا چاہیے۔
ففی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله وبالله) زاده على ما في الكنز والهداية (إلی قوله) أنه لا يسن الأذان عند إدخال الميت في قبره كما هو المعتاد الآن، وقد صرح ابن حجر في فتاويه بأنه بدعة. اھ (2/ 235)
وفی حاشية ابن عابدين: مطلب في التلقين بعد الموت: (قوله: ولا يلقن بعد تلحيده) ذكر في المعراج (إلی قوله) وإنما الذي فيه قيل يلقن لظاهر ما رويناه وقيل: لا، وقيل لا يؤمر به ولا ينهى عنه اهـ وظاهر استدلاله للأول اختياره فافهم.اھ(2/ 191)