تدفین

ایک قبر میں دفن کرنے کے بعد میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا

فتوی نمبر :
38223
| تاریخ :
2019-09-12
عبادات / جنائز / تدفین

ایک قبر میں دفن کرنے کے بعد میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا

کیا قبر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قبر منتقل کرنے والی بات تو سمجھ میں نہیں آئی، البتہ میت کو دفن کرنے کے بعد بغیر کسی ضرورتِ شدیدہ و ضروتِ شرعیہ کے منتقل کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين : تحت (قوله و لا بأس بنقله قبل دفنه) قيل مطلقا ، و قيل إلى ما دون مدة السفر ، و قيده محمد بقدر ميل أو ميلين لأن مقابر البلد ربما بلغت هذه المسافة فيكره فيما زاد . قال في النهر عن عقد الفرائد : و هو الظاهر اهـ و أما نقله بعد دفنه فلا مطلقا . قال في الفتح و اتفقت كلمة المشايخ في امرأة دفن ابنها ، و هي غائبة في غير بلدها فلم تصبر ، و أرادت نقله على أنه لا يسعها ذلك ، فتجويز شواذ بعض المتأخرين لا يلتفت إليه . و أما نقل يعقوب و يوسف - عليهما السلام - من مصر إلى الشام ليكونا مع آبائهما الكرام فهو شرع من قبلنا و لم يتوفر فيه شروط كونه شرعا لنا اهـ (2/ 239)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
غلام یسین شبیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38223کی تصدیق کریں
0     1245
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات