ایک عورت جو عیسائی تھی ، اس نے دس سال پہلے اسلام قبول کر لی اور ایک مسلمان سے شادی کر لی ، اس کی اولاد نہیں ہے، دو بھائی اور دو بہنیں جو کہ عیسائی مذہب سے ہی تعلق رکھتے ہیں، وہ ہیں، سوال یہ ہے کہ ایسی عورت کو طلاق ہو جانے کے بعد موت کے وقت اس کے کفن دفن اور قبر میں اتارنے کے لیے کیا اس کے بھائی مدد کر سکتے ہیں یا مسلمان نا محرم مرد ہی اس کی میت کو قبر میں اتاریں گے ۔
ایسی خاتون کو کوئی مسلمان خاتون غسل اور کفن دے اور کفن دفن کے مصارف اس کے اپنے مال سے ادا کئے جائیں، پھر اگر کوئی مسلمان محترم قبر میں اتار نے والا نہ ہو تو اجنبی لوگوں کی بنسبت غیر مسلم عیسائی بھائی ہی قبر میں اتارنے کے زیادہ حقدار اور مجاز ہیں۔
ففي الفتاوى الهندية: وذو الرحم المحرم أولى بإدخال المرأة من غيرهم، كذا في الجوهرة النيرة وكذا ذو الرحم غير المحرم أولى من الأجنبي فإن لم يكن فلا بأس للأجانب وضعها اھ (1/ 166)