کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نابالغ بچے کو قبر میں دفن کرنے کے بعد اس کی قبر پر سورۂ فاتحہ یا سورۂ بقرۃ کی آخری آیات پڑھی جائیں گی یا نہیں؟ جبکہ بالغ حضرات کی قبور پر پڑھی جاتی ہیں، نیز بعض جگہوں میں مردے کو دفن کرتے وقت اس کو چِت لٹا کر صرف اس کے چہرے کو قبلہ رخ کر دیتے ہیں یعنی مردے کو کروٹ کے بَل دفن نہیں کرتے، آیا یہ طریقہ سنت کے مطابق ہے یا نہیں؟
۱۔ سورۂ بقرۃ کے اوّل و آخر کا بالغ و نابالغ دونوں کی قبر پر پڑھنا مستحب عمل ہے، جس کا اہتمام چاہیے۔
۲۔ مذکورہ طریقہ مسنون و مستحب عمل کے خلاف ہے، جبکہ بہتر اور مستحب یہ ہے کہ مردے کو داہنی کروٹ پر سہارا دےکر اس کا چہرہ قبلہ رخ کیا جائے۔
ففی حاشية ابن عابدين: و كان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة و خاتمتها اھ(2/ 237)۔
و فی مرقاة المفاتيح: عن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي - صلى الله عليه وسلم - يقول: " إذا مات أحدكم فلا تحبسوه، و أسرعوا به إلى قبره، و ليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة، و عند رجليه بخاتمة البقرة " رواه البيهقي في شعب الإيمان اھ(3/ 1228)۔
و فی الفقه الإسلامي و أدلته: إضجاعه على جنبه الأيمن إلى القبلة ، اتباعاً للسنة ، لقوله - صلّى الله عليه و سلم - عن البيت الحرام: ’’قبلتكم أحياء و أمواتاً‘‘، و لقول حذيفة: ’’وجهوني‘‘ و قول فاطمة الزهراء لأم رافع: ’’استقبلي بي القبلة‘‘ اھ(2/ 1478)۔
و فی أعلاء السنن: قال المؤلف فی نیل الأوطار (۳/۲۴۹) المراد بقوله: ’’احیاء و أمواتا‘‘ فی اللحداھ (۸/۲۵۶)۔