تدفین

قبر پر کتبہ لگانا ، زندگی میں قبر کی جگہ کی وصیت کرنا

فتوی نمبر :
7954
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / جنائز / تدفین

قبر پر کتبہ لگانا ، زندگی میں قبر کی جگہ کی وصیت کرنا

السلام علیکم!
قبر پر کتبہ لگانا کیسا ہے ؟ اس سے مطلوبہ قبر تلاش کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے، ان لوگوں کے لیے جو قبرستان سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں اور دعا وغیرہ کرنا چاہتے ہیں، کیا کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی قبر کی جگہ کے بارے میں وصیت کر سکتا ہے؟ جبکہ دوسرے لوگوں کو اس سے کوئی مسئلہ نہ ہو یعنی قبر قبرستان میں قبروں کے لیے جگہ کی کمی نہ ہو ، قبر کے قریب بیٹھ کر ایصالِ ثواب کی نیت سے تلاوت کرنا کیسا ہے ؟ جزاک اللہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ مذکور مقصد کے لیے قبر پر کتبہ لگانا اگر چہ جائز ہے، مگر کتبہ پر قرآنی آیات اور اشعار وغیرہ لکھنا بہر حال مکروہ ہے، اس سے احتراز لازم ہے ۔
۲۔ اپنے لئے قبر کی جگہ متعین کرنے میں تو شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ اگر قبرستان وقف کا ہو تو متولی وقف کی اجازت بھی ضروری ہے۔
۳۔ قبر کے قریب بیٹھ کر ایصالِ ثواب کے لیے تلاوت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ اور کسی خلاف شرع کام کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين: (قوله لا بأس بالكتابة إلخ) لأن النهي عنها وإن صح فقد وجد الإجماع العملي بها إ(لى قوله) فأما الكتابة بغير عذر فلا اهـ حتى إنه يكره كتابة شيء عليه من القرآن أو الشعر أو إطراء مدح له ونحو ذلك حلية ملخصا. (2/ 237)
وكما في حاشية ابن عابدين: (قوله: ويحفر قبرا لنفسه) في بعض النسخ: وبحفر قبر لنفسه، على أن لفظة حفر مصدر مجرور بالباء مضاف إلى قبر: أي ولا بأس به. وفي التتارخانية: لا بأس به، ويؤجر عليه اھ (2/ 244)
وفي حاشية ابن عابدين: ولا يكره الجلوس للقراءة على القبر في المختار لتأدية القراءة على الوجه المطلوب بالسكينة والتدبر والاتعاظ. اهـ (2/ 246)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کلیم اللہ جان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 7954کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات