احکام حج

ملازم کا کمپنی سے پیشگی رقم لےکر حج کرنا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
24877
| تاریخ :
2014-12-16
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

ملازم کا کمپنی سے پیشگی رقم لےکر حج کرنا جائز ہے ؟

کیا کمپنی سے پیشگی رقم لینے کی صورت میں حج ہو سکتا ہے جہاں آدمی ملازم ہو ؟یہ پیشگی رقم کمپنی کو واپس کر دی جائے گی بغیر کسی اضافی چارجز کے ماہانہ تنخواہ سے برابر ماہانہ اقساط میں، مثلاً اگر ایک شخص پیشگی تین لاکھ روپے لیتا ہے وہ انہیں تین لاکھ کو واپس کر دیتا ہے ماہانہ اقساط میں بغیر کسی اضافی چارجز یا سود کے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں!کمپنی یا کسی فرد سے قرض لےکر حج کرنا بھی درست ہے، حج اسطرح بھی ادا ہو جاتا ہے، مگر حج فرض نہ ہونے کی صورت میں اس طرز ِعمل کو اختیار نہ کرنا چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الرد : فی اللباب: الفقير الآفاقي إذا وصل إلى ميقات فهو كالمكي قال شارحه أي حيث لا يشترط فی حقه إلا الزاد والراحلة إن لم يكن عاجزا عن المشي، وينبغي أن يكون الغني الآفاقي كذلك إذا عدم الركوب بعد وصوله إلى أحد المواقيت فالتقييد بالفقير لظهور عجزه عن المركب، وليفی د أنه يتعين عليه أن لا ينوي نفلا على زعم أنه لا يجب عليه لفقره لأنه ما كان واجبا وهو آفاقي فلما صار كالمكی وجب عليه فلو نواه نفلا لزمه الحج ثانيا اھ (2/460)۔
وفیالہندیة : (ومنها البلوغ) فلا يجب على الصبي كذا في فتاوى قاضي خان ولو أن الصبي حج إذا قبل البلوغ فلا يكون ذلك عن حجة الإسلام ويكون تطوعا، ولو أحرم ثم بلغ قبل الوقوف بعرفة إن مضى على إحرامه يكون تطوعا، وإن جدد التلبية أو استأنف الإحرام بعد الإدراك ثم وقف بعرفة يكون عن حجة الإسلام بالإجماع كذا في شرح الطحاوي(إلی قوله)ولو جاوز الميقات بغير إحرام ثم احتلم بمكة، وأحرم من مكة أجزأه عن حجة الإسلام، ولم يكن عليه لمجاوزة الميقات بغير إحرام شيء كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/217)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 24877کی تصدیق کریں
0     576
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات