اگر باپ اپنے بیٹے کو مجبور کرے کہ مجھے پیسے دے ،تاکہ میں حج کے لیے جاسکوں ،تو کیا اسلامی تعلیمات میں یہ بیٹا اس بات کا پابند ہے یا نہیں ؟
اول تو یہ جاننا چاہیے کہ حج کے فرض ہونے کے لیے انسان کا خود صاحبِ استطاعت ہونا ضروری ہے، اگر وہ خود صاحب ِاستطاعت نہ ہو تو بیٹے وغیرہ کسی دوسرے شخص پر اس کے حج کے اخراجات برداشت کرنا لازم نہیں، اسلیے بلاوجہ بیٹے کو پیسے دینے کے لیے مجبور کرنا شرعاً مناسب نہیں ، البتہ بیٹا اگر مالدار ہو اور وہ اپنی مرضی سے اپنے والد صاحب کوحج کی ادائیگی کے لیے پیسے دےدے تو یہ اس کے لیے بہت بڑی سعادت مندی ہے، اور اس کو ایسا کر لینا چاہیے۔
کما فی فتح القدير : (الحج واجب على الاحرار البالغين العقلاء الاصحاءاذا قدر و على الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عود ان كان الطريق آمنا ) اھ (2/322)۔
وفی البحر الرائق : فالأولى ثمانية على الاصح الاسلام والعقل والبلوغ والحرية والوقت والقدرة على الزاد والقدرة على الراحلة – والعلم بكون الحج فرضا اھ (2/307)۔