السلام علیکم! مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ ایک عورت اپنے زیور کی وجہ سے خود پر حج فرض سمجھتی ہے ، اگر خاوند کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ اسے حج پر لے جا سکے تو کیا وہ عورت گناہ گار ہوگی؟ کیا عورت پر اپنے پاس زیور کی وجہ سے حج فرض ہو جاتا ہے ؟کتنی مقدار زیور سے حج فرض ہو جاتا ہے ؟
جس خاتون کے پاس اتنا زیور موجود ہو کہ جسکی بنیاد پر اپنے اور محرم کے سفرِ حج کے اخراجات پورے کر سکتی ہو تو اس پر حج فرض ہے، مگر جب تک کسی محرم کا انتظام نہ ہو وہ حج پر نہیں جا سکتی اور شوہر پر اسکو حج کرانا لازم نہیں۔
کما فی فتح القدیر : (الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن وما لا بد منه، وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا) اھ (2/410)۔
وفیه أیضاً : (ويعتبر فی المرأة أن يكون لها محرم تحج به أو زوج، ولا يجوز لهاأن تحج بغيرهما إذا كان بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام) اھ (2/330)۔