السلام علیکم! مفتی صاحب! میرا سوال کریڈٹ کارڈ سے متعلق ہے؟ میرے پاس ایک بنک کا کریڈٹ کارڈ ہے؟وہ بنک مجھے کارڈ کے اوپر قرضہ دے رہا ہے اس شرط پر کہ میں اگر 5000 درہم ایک سال کی قسطوں پر بطور قرض لیتا ہوں تو بنک مجھ سے کوئی سود نہیں لے گا البتہ 5000 کا 4% مجھ سے بطور پروسیسنگ فیس کے سروس چارجز لیں گے؟ اور اگر میں مطلوبہ رقم کی قسط وقت پر ادا کرتا رہوںگا تو کسی قسم کا سود نہیں دینا ہوگا میرا سوال ہے کہ مذکورہ صورت میں کیا میں بنک سے لون لے سکتاہوں رہنمائی فرمائیں؟ جزاللہ
کریڈٹ کارڈ کا خریدنا اور اس کا استعمال کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقررہ مدت کے اندر ادا کردی جائے تاکہ ان پر سود لاگونہ ہو سکے کیونکہ اس پر بھی سود ادا کرنا حرام ہے جبکہ براہ راست کریڈٹ کارڈ کے ذریعے نقدی حاصل کرنا بھی اس شرط پر جائز ہے کہ اس نقدی کو واپس لیتے وقت کوئی زائد ٹیکس نہ لیا جارہا ہو خواہ یہ کارڈ دکاندار جاری کرے یا بینک کیونکہ زائد ٹیکس خدمات کی لاگت کے مقابلے میں نہیں بلکہ قرض کے مقابلے میں ہوگا جو خالص سود ہے جبکہ مشین کے ذریعے حاصل کرنے میں گنجائش ہے کیونکہ اس صورت میں یہ قرض کے مقابلے میں نہیں ہے۔ چنانچہ اس تفصیل کو ملحوظ رکھتے ہوئے سائل بھی کریڈٹ کارڈ استعمال کر سکتا ہے اس طرح سائل کو بغیر سود بینک لون دیتا ہو تو اس کا لینا اپنے استعمال میں لانا بھی درست ہوگا ورنہ نہیں۔
قال فی الجامع الفصولین: للقاضی أن یاخذ ما یجوز لغیرہ وما قیل فی کل الف خمسۃ دراہم لا نقول بہ ولا یلیق ذلک با لفقہ وأی مشقۃ للکاتب فی کثرۃ الثمن وإنما اجر مثلہ بقدر مشقۃ او بقدر عملہ فی صنعۃ ایضا کحکاک وثقاب لیستاجر باجر کثیر فی مشقہ قلیلۃ قال بعض الفضلاء: افھم ذلک جواز أخذ الأجر الزائدۃ وإن کان العمل مشقۃ قلیلۃ ونظرہم لمنفعۃ المکتوب لہ الخ قلت: ولا یخرج ذلک عن اجرۃ مثلہ فإن من تفرغ لہذا العمل کثقاب اللآلی مثلًا لا یأخذہ الاجر علی قدر مشقۃ فإنہ لا یقوم بمؤونتہ ولو الزمناہ ذلک لزم ضیاع ہذا الصنعۃ فکان ذلک اجر مثلہ (رد المحتار: ج:۵ ص: ۹۲) واللہ اعلم
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0