میرا کریڈٹ کارڈ سے متعلق ایک سوال ہے ، کیا اسلام میں درجِ ذیل شرائط کے ساتھ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا جائز ہے؟
( 1) میں اپنا بیلنس وقت پر ادا کرتا ہوں ، اس لئے مجھے ادائیگی کے لئے سود نہیں ملتا ، ناروے میں دوسرے نمبر پر اگر ہم مستقبل میں کچھ خریدنا چاہتے ہیں تو وہ ہمیشہ کریڈٹ سکور مانگتے ہیں ، دوسرے پہلو سے میرا ایک اور سوال ہے: اصل میں اس کریڈٹ کارڈ میں فوائد حاصل کرنے کے لئے سالانہ فیس ہوتی ہے ، لیکن میں یونین کا ممبر ہوں جہاں میں ماہانہ رکنیت کی فیس ادا کرتا ہوں ، ممبر کو فوائد دینے کے بدلے میں ان کا بینک کے ساتھ معاہدہ ہے جو بغیر سالانہ فیس کے کریڈٹ کارڈ پیش کرتا ہے ، اس کریڈٹ کو لاؤنجز تک رسائی حاصل ہے ، مختصراً میں کریڈٹ کارڈ کے لئے بینک کو کوئی فیس ادا نہیں کر رہا ہوں ، کیونکہ یہ یونین کی رکنیت کے ذریعے معاوضہ دیا گیا ہے ، تو کیا اس صورت میں صرف لاؤنج تک رسائی کے لئے کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز ہوگا؟ اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں شکریہ جزاک اللہ
واضح ہو کہ کریڈٹ کارڈ کے اجراء کے وقت چونکہ مقررہ وقت پر قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں سود لاگو ہونے کی شرط لگائی جاتی ہے اس لئے کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام حالات میں شرعاً ناجائز ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، البتہ اگر کسی جگہ کریڈٹ کارڈ کے بغیر خریداری وغیرہ ناممکن ہو اور حکومتِ وقت کی طرف سے کریڈٹ کارڈ کا استعمال لازم ہو ، تو ایسی مجبوری کی صورت میں کریڈٹ کارڈ کا لینا اور اس کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا کہ مقررہ وقت کے اندر ہی قرض کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا جائے ، تاکہ عملاً سودی رقم دینا نہ پڑے ۔
كما في الدر المختار : وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن ( فصل في القرض، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (إلى قوله) وتعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة والقضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح ( مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج 5، ص 166، ط : سعيد)-
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة : وهناك نوع آخر من الجوائز، تعطى على استخدام بطاقات الائتمان والعادة في هذه البطاقات أن حاملها يحصل على نقاط عند كل استخدام له لتلك البطاقة عند شراء بضاعة أو خدمة، وإن هذه النقاط تدخر في حسابه عند مصدر البطاقة؛ فكلما بلغت النقاط حداً معيناً، استحق حامل البطاقةجائزة من قبل المصدر. وحكم هذه الجوائز موقوف على معرفة علاقة مصدر البطاقة مع حاملها (إلى قوله) وعلى هذا، فإن مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حامل البطاقة من أن يكون محتالاً عليه أولاً ، ثم مقرضاً له عندما يسدد دينه إلى التاجر، فالجائزة التي يقدمها مصدر البطاقة إلى حاملها هي جائزة من قبل المقرض إلى المستقرض، فهو تبرع محض، لا قمار فيه ولا رباً : أما القمار، فلأن حامل البطاقة لم يعلق شيئاً من ماله على خطر . وأما الربا، فإنه يتحقق بإعطاء زيادة من المستقرض إلى المقرض، وليس في العكس، فلو أعطى مقرض شيئاً للمستقرض، علاوة على القرض، فإنه تبرع محض لا يلزم منه الربا . ( الجوائز على بطاقات الائتمان ، ج 2، ص 164، ط : مكتبة دار العبوم ، كراتشي)-
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور اس پر ملنے والے پوائنٹس و ڈسکاؤنٹ وغیرہ استعمال کرنےکا حکم
یونیکوڈ کریڈٹ کارڈ 0