اگر والدین شادی کے موقع پر اپنے بیٹی کو جہیز دے دیں اور شادی کے بعد بیٹی کا انتقال ہو جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو تو کیا والدین شوہر سے مذکور جہیز کے واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟
والدین کی طرف سے بیٹی کو شادی کے موقع پر جو جہیز دیا جاتا ہے، شرعاً لڑ کی اس کی مالک بن جاتی ہے، لہذا انتقال کی صورت میں وہ تر کہ شمار ہوگا، جس میں لڑکی کے والدین سمیت اس کا شوہر بھی حقدار ہے، اس لئے والدین کا پورا سامانِ جہیز واپس لینے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ، بلکہ یہ اصولِ میراث کے مطابق لڑکی کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا، جس میں اولاد نہ ہونے کی صورت میں شوہر کو جہیز سمیت کل مال کا آدھا حصہ دیا جاتا ہے۔
وفي الدر المختار: جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعده( ان سلمها ذلك في صحته بل تختص به وبه يفتي)۔اھ (3/155)