السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ،امید ہے کہ خیر و عافیت سے ہونگے۔
سوال : مفتی صاحب! میں نے اپنے بیٹے کا رشتہ طے کرتے وقت 12 لاکھ روپے جو کہ شادی سے پہلے بعوض جہىز اپنی بہو کے والد کو دیئے تھے۔ ان 12 لاکھ روپے سے( بعوض جہىز ) بہو کے والد نے بہو کے لیئے سونا اور کچھ چیز یں جہىز کے زمرے میں خریدیں۔رشتہ طے کرتے وقت میرے بیٹے نے حلفا تحریر کرکے دیا تھا، جو کہ آپ کی آسانی کے لیئے لف کر رہا ہوں۔ مزید یہ کہ 1 لاکھ روپے حق مہر اس کے علاوہ ادا کیئے تھے۔ ہمارے ہاں عرف یہ ہے کہ طلاق ہوجانے کی صورت میں حق مہر کے علاوہ جہىز شوہر یا انکے والدین واپس لیتے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ وہ رشتہ اب مزید نہیں رہا اور طلاق ہو گئى ہے، اس بارے مىں فتوی دیں، جہىز جو میری بہو لائی تھی اپنے ساتھ اور میں نے جو اپنی بہو کو 12 لاکھ بعوض جہیز دیئے تھے جن سے ان لوگوں نے سونے کے زیورات اور ضروری چیزیں خریدیں ۔ اس بارے مىں شرعی کیا احکامات ہیں؟ آپ کا فتوی درکار ہے۔ براه مہربانی فتوی دیں۔ اگر 12 لاکھ روپے جہىز والے پیسے ہمیں واپس نہ ہونے کا شبہ ہو تو کیا ان پیسوں کے عوض سامان جیسے زیورات رکھ سکتے ہیں ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل کے خاندان میں اپنی ہونے والی بہو کو شادی کے موقع پر خریداری کے لیے رقم ان کی پسند كی خریداری کے لیے دی جاتی ہو، باقی اصل ملکیت شوہر اور سسرال کی شمار کی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں سائل یا اس کا بیٹا طلاق کی صورت میں مذکور سامان یا رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے،ورنہ نہیں ۔
كما في الدر المختار: (ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) كقوله لشمع أو حناء ثم قال إنه من المهر لم يقبل قنية لوقوعه هدية فلا ينقلب مهرا (فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها، فإن حلف والمبعوث قائم فلها أن ترده. [کتاب النکاح، باب المھر، ج 3، ص 151، ط: ایچ ایم سعید)]
وفي الدر المختار أيضاً: (خطب بنت رجل وبعث إليها أشياء ولم يزوجها أبوها فما بعث للمهر يسترد عينه قائما) فقط وإن تغير بالاستعمال (أو قيمته هالكا) لأنه معاوضة ولم تتم فجاز الاسترداد (وكذا) يسترد (ما بعث هدية وهو قائم دون الهالك والمستهلك) لأنه في معنى الهبة اهـ [کتاب النکاح، باب المھر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج 3، ص 153، ط: ایچ ایم سعید)]
فی الشامیۃ: تحت قوله: (لأن الظاهر يكذبه) قال فی الفتح: والذی يجب اعتباره فی ديارنا أن جميع ما ذكر من الحنطة واللوز والدقيق والسكر والشاة الحية وباقيها يكون القول فيها قول المرأة لأن المتعارف فی ذلك كله أن يرسله هدية والظاهر معها لا معه، ولا يكون القول إلا فی نحو الثياب والجارية اھ (إلی قولہ) قال فی النهر: وأقول وينبغی أن لا يقبل قوله أيضا فی الثياب المحمولة مع السكر ونحوه للعرف، اھ قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف فی الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلی، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى فی العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف فی زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا، الخ (کتاب النکاح، باب المھر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج 3، ص 153، ط: ایچ ایم سعید)