جہیز

لڑکی کوشادی پردی جانے والی ’’بری‘‘ کاحکم

فتوی نمبر :
69010
| تاریخ :
2023-11-05
معاملات / احکام نکاح / جہیز

لڑکی کوشادی پردی جانے والی ’’بری‘‘ کاحکم

بعد سلام عرض ہے کہ میرے دو سوال ہیں۔
(1)بہو کو شادی پر بری دی جاتی ہے جو رسم کہہ سکتے ہیں ، سونا ، چاندی اور سوٹ وغیرہ، اب بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے اور بہو اگر دوسری شادی کرلے تو اس بری کا کیا حکم ہے ؟
(2)میرے بیٹے کی کوئی اولاد نہیں تھی ، ایک بچہ گود لیا تھا بنا کسی کاغذی کاروائی کے ، پر ”ب فارم“ میں اس لے پالک کو بیٹا ظاہر کیا تھا ، اب بچہ راضی خوشی اپنے حقیقی والدین کے پاس ہے ، پر بیوہ وراثت قائم نہیں ہونے دے رہی ، ”ب فارم“ سے نام نہیں ہٹوا رہی ، کوئی حل بتائیں! (شکریہ)۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1۔صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے خاندان میں عورت کو شادی کے موقع پر بنام بری جو زیورات دیئے جاتے ہیں ، اگر وہ صرف استعمال کیلئے نہ دیئے جاتے ہوں ، بلکہ مالک بنا کر دیئے جاتے ہوں اور سائلہ کے مرحوم بیٹے نے بھی زیورات وغیرہ بنام بری مالکانہ طور پر دیئے ہوں ، فقط عاریت (استعمال) کے طور پردینے کی صراحت نہ کی ہو تو اب شوہر کی وفات کی صورت میں عورت سے ان اشیاء کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں بلکہ سائلہ کی بہو ان اشیاء کی مالکہ بن چکی ہے ، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر دوبارہ بھیج دیں ، إن شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
2۔واضح ہو کہ لے پالک (منہ بولا بیٹا) شرعاً وراثت کا حقدار نہیں ہوتا ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور لے پالک بچہ شرعی طور پر سائلہ کے بیٹے کی وراثت میں حصہ دار نہیں ، لہذا بہو کا مذکور مطالبہ پر بضد رہنا اور ترکہ کی تقسیم میں رکاوٹ ڈالنا شرعاً جائز اور درست نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، تاہم اگر سائلہ کی بہو اس کو اپنے حصہ سے دینا چاہے تو تقسیم کے بعد اپنے شرعی حصہ میں سے دے سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَ مَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَ اللهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَ هُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ﴾الآیة (الأحزاب: 4)۔
وفی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك۔اھ (7/284)۔
وفی رد المحتار: و من ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد و المواسم من نحو ثياب و حلي ، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس و يسمى في العرف صبحة ، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر۔اھ (3/153)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69010کی تصدیق کریں
0     859
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو دئیے گئے جہیز اور سونے کا حکم

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • جہیز کا سامان اگر بیوی شوہر کو دیدے تو بعد میں اسے مطالبے کا حق حاصل ہوگا ؟

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • لڑکی کوشادی پردی جانے والی ’’بری‘‘ کاحکم

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • بیٹی کی فوتگی پر والدین کا جہیز واپس مانگنا

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • طلاق کی صورت میں سامان جہیز کا حکم

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • شادی کےموقع پر بیوی کو دیئے ہوئے زیورات واپس لئے جا سکتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • طلاق کے بعد جہیز کے سامان کے متعلق تفصیلی حکم

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • ؑعلیحدگی کے بعد لڑکی کو والد کی طرف سے ملنےوالا جہیز کس کی ملکیت شمار ہوگا؟

    یونیکوڈ   انگلش   جہیز 0
  • جہیز کا سامان لڑکے والوں نے خرید کر دیا ہو تو اس کی ملکیت کا حکم

    یونیکوڈ   جہیز 1
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو ملنے والا سونا کس کی ملکیت کہلائے گا؟

    یونیکوڈ   انگلش   جہیز 0
Related Topics متعلقه موضوعات