بعد سلام عرض ہے کہ میرے دو سوال ہیں۔
(1)بہو کو شادی پر بری دی جاتی ہے جو رسم کہہ سکتے ہیں ، سونا ، چاندی اور سوٹ وغیرہ، اب بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے اور بہو اگر دوسری شادی کرلے تو اس بری کا کیا حکم ہے ؟
(2)میرے بیٹے کی کوئی اولاد نہیں تھی ، ایک بچہ گود لیا تھا بنا کسی کاغذی کاروائی کے ، پر ”ب فارم“ میں اس لے پالک کو بیٹا ظاہر کیا تھا ، اب بچہ راضی خوشی اپنے حقیقی والدین کے پاس ہے ، پر بیوہ وراثت قائم نہیں ہونے دے رہی ، ”ب فارم“ سے نام نہیں ہٹوا رہی ، کوئی حل بتائیں! (شکریہ)۔
1۔صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے خاندان میں عورت کو شادی کے موقع پر بنام بری جو زیورات دیئے جاتے ہیں ، اگر وہ صرف استعمال کیلئے نہ دیئے جاتے ہوں ، بلکہ مالک بنا کر دیئے جاتے ہوں اور سائلہ کے مرحوم بیٹے نے بھی زیورات وغیرہ بنام بری مالکانہ طور پر دیئے ہوں ، فقط عاریت (استعمال) کے طور پردینے کی صراحت نہ کی ہو تو اب شوہر کی وفات کی صورت میں عورت سے ان اشیاء کی واپسی کا مطالبہ کرنا درست نہیں بلکہ سائلہ کی بہو ان اشیاء کی مالکہ بن چکی ہے ، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر دوبارہ بھیج دیں ، إن شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
2۔واضح ہو کہ لے پالک (منہ بولا بیٹا) شرعاً وراثت کا حقدار نہیں ہوتا ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور لے پالک بچہ شرعی طور پر سائلہ کے بیٹے کی وراثت میں حصہ دار نہیں ، لہذا بہو کا مذکور مطالبہ پر بضد رہنا اور ترکہ کی تقسیم میں رکاوٹ ڈالنا شرعاً جائز اور درست نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، تاہم اگر سائلہ کی بہو اس کو اپنے حصہ سے دینا چاہے تو تقسیم کے بعد اپنے شرعی حصہ میں سے دے سکتی ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَ مَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَ اللهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَ هُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ﴾الآیة (الأحزاب: 4)۔
وفی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك۔اھ (7/284)۔
وفی رد المحتار: و من ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد و المواسم من نحو ثياب و حلي ، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس و يسمى في العرف صبحة ، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر۔اھ (3/153)۔