طلاق کے بعد کیا مجھے "بری" کے زیور واپس کرنے ہوں گے ، جو دو لہا والوں نے مجھے شادی کے موقع پر دیے تھے ، (جبکہ 11 سالوں سے میں با قاعدہ سے اس پر واجب زکوۃ ادا کرتی رہی ہوں بغیر کسی کی مدد کے)
2: کیا جہیزکی چیزیں جو میری والدہ نے مجھے شادی کے موقع پر دی تھیں وہ واپس لا سکتی ہوں ؟
3۔ جو گفٹ اور سونا شادی کے موقع پر میری والدہ نے لڑکے اور ان کے اہلخانہ کو دیے تھے وہ واپس لائیں جائیں گے ؟
لڑکی کو شادی کے موقع پر اس کے والدین کی طرف سے جہیز کی صورت میں یا دیگر عزیز و اقارب کی طرف سے اچھے تحائف کی صورت میں جو سامان دیا جاتا ہے ، اسی طرح جو زیورات وغیرہ شوہر یا اس کے والدین کی طرف سے بطور حق مہر باضابطہ مالک وقابض بنا کر دیے جاتے ہیں وہ بیوی کی ملکیت ہوتے ہیں، لہذا طلاق ہو جانے کے بعد سائلہ کو اپنے جہیزوغیرہ کا سامان واپس لینے کا حق حاصل ہے ، البتہ جو گفٹ اور زیورات سائلہ کی والدہ نے اپنے داماد کو دیے تھے اگر وہ محض استعمال کے لئے نہ ہوں بلکہ باقاعدہ مالک و قابض بنا کر دیے ہوں تو یہ اس کی ملکیت ہو چکے ہیں، لہذا اب سائلہ کی والدہ گفٹ اور زیورات وغیرہ واپس لینے کی مجاز نہیں۔
کمافی ردالمحتار : قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا ام (1533)
وفي الفتاوى الهندية : وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية. اهـ (1) 327)