جہیز

جہیز کا سامان اگر بیوی شوہر کو دیدے تو بعد میں اسے مطالبے کا حق حاصل ہوگا ؟

فتوی نمبر :
68867
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / جہیز

جہیز کا سامان اگر بیوی شوہر کو دیدے تو بعد میں اسے مطالبے کا حق حاصل ہوگا ؟

علماء سے ایک بات جاننا چاہ رہا ہوں کہ اگر شادی کے وقت بیوی اپنے ساتھ کچھ سامان یا جہیز لے کر آئے اور اس میں سے کچھ سامان یا سارا سامان اپنے شوہر کو ہبہ کرنا چاہے تو اس کا کیا طریقہ کار ہے؟ صورتِ مسئولہ یہ ہے کہ بیوی اپنے ساتھ سامان بطورِ جہیز لے کر آنا چاہ رہی تھی، لیکن شوہر نے منع کیا کہ مجھے جہیز نہ دیں، ہم کرائے کے گھر میں رہتے ہیں کبھی اس گھر میں ہوتے ہیں، کبھی اس گھر میں ہوتے ہیں، سامان کی نقل و حرکت ہمارے لئے مشکل ہے، آپ ہمیں سامان نہ دیں ہمیں کوئی گلہ نہیں، سسرال والوں نے کہا کہ نہیں اگر ہم اپنی بیٹی کو کچھ نہیں دیں گے تو لوگ کیا کہیں گے، اس وقت ہم ضرور سامان دیں گے بعد میں آپ کا جو جی چاہے وہ کر لیجئے گا، قصہ مختصر سامان شوہر کے گھر میں آگیا بعد میں شوہر نے بیوی کے رویے کو دیکھتے ہوئے جانچ لیا کہ شادی کے وعدے کے مطابق اگر میں نے سامان میں تصرف کیا تو بیوی کل کو طعنے دے گی، لہٰذا شوہر نے بیوی کو کہا کہ آپ اپنا سامان خود فروخت کر لیں یا کسی اور کو دے دیں یا اپنے والدین کو واپس دے دیں، یہ آپ پر ہے، کیونکہ شوہر اپنا گھر تبدیل کرنا چاہ رہا تھا اور سامان کی منتقلی ایک مسئلہ تھا اور بعد ازاں اس گھر کو بھی چھوڑنے پر دوبارہ منتقلی کسی اور جگہ کرنا یہ بھی مشکل تھا، بیوی نے کہا کہ نہیں یہ سامان آپ کی صوابدید پر ہے اگر آپ چاہیں تو فروخت کر دیں چاہے تو منتقل کر لیں، شوہر نے کہا کہ نہیں میں یہ سامان اپنے گھر منتقل نہیں کر سکتا،جب بار بار مکان کی تبدیلی میں اس سامان کی منتقلی ایک مسئلہ ہوگا، لہٰذا آپ اپنے طور پر سامان کو بے شک واپس دے دیں، بے شک فروخت کر لیں، بیوی نے اپنے والدین کو بتایا، اس کا والد اپنی ایک اور بیٹی کو لے کر شوہر کے گھر آیا اور شوہر کو اس کی بیوی اس کی سالی اور اس کے سسر نے باوثوق طریقے سے کہا کہ یہ سامان ہم نے آپ کو دیا آپ اس میں سیاہ کریں سفید کریں ہم آپ کو کسی قسم کا کوئی طعنہ نہیں دیں گے، شوہر نے کہا کہ میں اس بات پر مطمئن نہیں ہوں، آپ مجھے یا تو اسٹام پیپر لکھ دیں کہ یہ سامان تصفیہ آپ کی رضا مندی سے ہے اور اس کے بعد آپ کوئی پنچایتی یا قانونی یا اخلاقی طعنہ زنی یا کاروائی نہیں کریں گے، انہوں نے اسٹام پیپر لکھ دیا، اس سمجھوتے کے بعد کہ یہ سامان مجھے دے دیا گیا ہے، لہٰذا شوہر نے اپنے گھر میں سامان منتقل کیا اور جو اس میں سے غیر ضروری سامان تھا وہ فروخت کر دیا، اب جاننا یہ ہے کہ کیا یہ سامان شوہر کی ملکیت میں آ چکا یا نہیں؟ جبکہ وہ اس پہ قبضہ و تصرف بھی کر چکا ہے، دوسرا یہ جاننا ہے کہ کیا کسی بھی تنازع کی صورت میں بیوی اپنے شوہر سے یہی سامان واپس لینے کا حق رکھتی ہے یا نہیں؟اور مزید یہ کہ اگر شوہر بیوی کو یہ سامان واپس نہ کرے، تو کیا وہ عند اللہ مجرم ہوگا یا نہیں؟ یاد رہے کہ شوہر یہ سامان استحساناً واپس کرنے کو تیار ہے، لیکن استحسان اور اخلاقی تقاضوں سے قطع نظر شرعی حکم جاننا چاہ رہا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ شوہر کو اسکی بیوی اور سسر نے دلی رضامندی سے جہیز کا سامان بطورِ ہبہ و گفٹ با قاعدہ مالکانہ قبضہ کیساتھ حوالے کر دیا ہو تو ایسی صورت میں شرعاً شوہر مذکور جہیز کے سامان کا مالک بن چکا تھا،اب وہ اسمیں جس طرح چاہے جائز تصرف کر سکتا ہے، چنا نچہ بعد میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والے تنازعے کی صورت میں اگر شوہر اس سامانِ جہیز کو واپس نہ کرنا چاہےتو شرعاً بیوی کیلئے وہ سامان واپس لینے کا اختیار نہ ہوگا، اور نہ ہی سامان واپس نہ کرنے کی وجہ سےشوہر عنداللہ مجرم ہوگا، تا ہم اگر شوہر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیوی کو سامانِ جہیز واپس کر کے خوش اسلوبی سے اس معاملے کو حل کرے تو یہ اجر وثواب کا باعث ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشكاة المصابيح : و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : « ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى ۔(2/889)۔
و فی مرقاة المفاتيح : ( لا يحل مال امرئ ) أي : مسلم أو ذمي (إلا بطيب نفس ) أي : بأمر أو رضا منه اھ (5/1974) ۔
و فی بدائع الصنائع : أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع ( الی قولہ ) ( و منها الزوجية ) سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا ، كذا في الاختيار شرح المختار . و إذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة ، و إن انقطع النكاح بينهما ، اھ (6/128) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68867کی تصدیق کریں
0     1115
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو دئیے گئے جہیز اور سونے کا حکم

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • جہیز کا سامان اگر بیوی شوہر کو دیدے تو بعد میں اسے مطالبے کا حق حاصل ہوگا ؟

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • لڑکی کوشادی پردی جانے والی ’’بری‘‘ کاحکم

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • بیٹی کی فوتگی پر والدین کا جہیز واپس مانگنا

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • طلاق کی صورت میں سامان جہیز کا حکم

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • شادی کےموقع پر بیوی کو دیئے ہوئے زیورات واپس لئے جا سکتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • طلاق کے بعد جہیز کے سامان کے متعلق تفصیلی حکم

    یونیکوڈ   جہیز 0
  • ؑعلیحدگی کے بعد لڑکی کو والد کی طرف سے ملنےوالا جہیز کس کی ملکیت شمار ہوگا؟

    یونیکوڈ   انگلش   جہیز 0
  • جہیز کا سامان لڑکے والوں نے خرید کر دیا ہو تو اس کی ملکیت کا حکم

    یونیکوڈ   جہیز 1
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو ملنے والا سونا کس کی ملکیت کہلائے گا؟

    یونیکوڈ   انگلش   جہیز 0
Related Topics متعلقه موضوعات