جناب مفتی صاحب ! عرض یہ ہے کہ میری بیٹی فضہ بن شمیم کو اس کے شوہر ذوہیب بن بلال نے تحریری طور پر تین طلاقیں دی ہیں طلاق نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے ، اب مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ لڑکی کو جو زیور ماں ،باپ، ساس اور سسر کی طرف سے دیا گیا ہے وہ کس کی ملکیت ہے ،نیز اس کے کپڑے وغیرہ اور دوسری دیگر چیزیں کس کی ملکیت ہیں ؟ اور حق مہر کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہوکہ شادی کے موقع پر لڑکی کو والدین کی طرف سے جو کچھ زیورات وغیرہ اور جہیز کا دیگر سامان مالک بناکر دیا جاتا ہے وہ شرعاً اس کی ملکیت بن جاتی ہے ،لہذا سائل کی بیٹی کو والدین اور اہل خانہ کی طرف سے جو زیورات اور دیگر سامان دیا گیا ہے وہ تو شرعاً اس کی ملکیت ہے اب طلاق ہوجانے کی صورت میں شوہر وہ زیورات اور دیگر سا زو سامان اپنے پاس روکے رکھنے کا اختیار نہیں رکھتا ،بلکہ وہ بیوی کے حوالے کرنا لازم اور ضروری ہے ،اسی طرح کپڑے اور عورتوں کی ضروت اور استعمال کی دیگر اشیا جو شوہر یا سسرال وغیرہ کی طرف سے سائل کی بیٹی کو دی گئی ہیں تو اس نوعیت کی چیزیں عرف میں ملکیۃً ہی دی جاتی ہیں اس لئے اس نوعیت کی اشیا بھی سائل کی بیٹی کی ملکیت شمار ہوں گی ،جبکہ سسرال کی طرف سے شادی وغیرہ کے موقع پر لڑکی کو جوزیورات دیئے گئے ہیں اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ یہ زیورات اگر فقط استعمال کیلئے عاریۃً دیئے گئے ہوں تو ایسی صورت میں شرعاً سائل کی بیٹی ان زیورات کی مالک شمار نہ ہوگی ،لیکن اگر یہ زیورات باقاعدہ ملکیۃً دیئے گئے ہوں یا خاندانی عرف و رواج کے مطابق شادی وغیرہ کے موقع پر دیئے جانے والے زیورات باقاعدہ ملکیۃً دیئے جاتے ہوں تو پھر شرعاً سائل کی بیٹی ان زیورات کی مالک شمار ہوگی اور اب طلاق کی صورت میں شوہر اور سسرال والوں کے ذمہ یہ زیورات سائل کی بیٹی کو حوالے کرنا لازم اور ضروری ہوگا ،اسی طرح اگر سائل کی بیٹی کے شوہر نے حق مہر ادا نہ کیا ہو اور سائل کی بیٹی نے معاف بھی نہ کیا ہو تو اب بعد از طلاق شوہر کے ذمہ پورے حق مہر کی ادائیگی لازم ہے ۔
کما فی رد المحتار على الدر المختار:ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا (3/153)
وفیہ ایضاً :المختار للفتوى أن يحكم بكون الجهاز ملكا لا عارية لأن الظاهر الغالب
إلا في بلدة جرت العادة بدفع الكل عارية فالقول للأب. وأما إذا جرت في البعض يكون الجهاز تركة يتعلق بها حق الورثة هو الصحيح.(3/157)