احکام حج

حج بدل کا حکم

فتوی نمبر :
26075
| تاریخ :
2015-08-15
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج بدل کا حکم

میں کئی سال سے جدہ رہ رہا ہوں اس سال میرا (پانچواں) حج کرنے کا ارادہ ہے، میرا ایک دوست لاہور میں رہتا ہے جو کہ فالج زدہ ہے۔ اس نے مجھے حج بدل کرنے کا کہا ہے وہ مالیاتی اعتبار سے بھی اچھا ہے، اگر وہ فالج کا شکار نہ ہوتا تو اپنا حج خود ادا کرتا۔
میرا سوال یہ کہ کیا میں اس کی طرف سے حج بدل ادا کر سکتا ہوں؟ کیا میں حج بدل کے تمام اخراجات دوست سے لے سکتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حج بدل کی صحت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہےکہ حج بدل پر جانے والا آمر (یعنی حج بدل کروانے والے) کے وطن سے حج بدل کیلئےجائے لہذا سائل کا جدہ میں رہ کر لاہور میں رہنے والے دوست کی طرف سے حج بدل کرنا درست نہیں سائل کے دوست پر لازم ہے کہ اپنے وطن (لاہور) سے کسی ایسے شخص کو جو پہلے اپنا حج کر چکا ہو اپنی طرف سے حج بدل کرانے کے لئے بھیج دے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیۃ: (الشرط) الحادی عشر أن یحج عنہ من وطنہ الخ (ج:۲ ص: ٤٠٠)
وفیھا ایضًا: وقال فی الفتح ایضًا والأفضل أن یکون قد حج عن نفسہ حجۃ الاسلام خروجًا عن الخلاف، ثم قال: والأفضل إحجاج الحر العالم بالمناسک الذی حج نفسہ الخ (ج:۲ ص: ٤٠٣) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 26075کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات