احکام حج

حج بدل کے طور پر ورثاء کی اجازت سے حجِ تمتع کرنا

فتوی نمبر :
29105
| تاریخ :
2016-08-11
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج بدل کے طور پر ورثاء کی اجازت سے حجِ تمتع کرنا

پچھلے سال میرے بہنوئی صاحب کا انتقال ہو گیا، انہوں نے حج کا ارادہ اپنی بیوی کے ساتھ جو میری سگی بہن ہے کیا تھا، لیکن انتقال سے پہلے انہوں نے اس کی کوئی وصیت نہیں کی تھی، لیکن وہ صاحبِ مال تھے اور حج ان پر فرض تھا، میری بہن اور مرحوم بہنوئی کی صرف دو بالغ کنواری بیٹیاں ہیں ، اس سال میری بہن نے حج پر جانے کے لئے درخواست جمع کی ہے، محرم کے طور پر انہوں نے میرا انتخاب کیا ہے اور چونکہ میں اپنا فرض حج ادا کر چکا ہوں اس لئے انہوں نے اور ان کی بیٹیوں نے مجھے اپنے مرحوم بہنوئی کا حجِ بدل کرنے کو کہا ہے، اس حجِ بدل کا خرچ میری بہن اٹھارہی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ میری بہن اگر مجھے حج ِتمتّع کرنے کی اجازت دےدے تو کیا میں اپنے مرحوم بہنوئی کا حجِ بدل ، حجِ تمتع کے ذریعے کر سکتا ہوں ؟ کیونکہ میری فلائیٹ 10 سے 15 اگست کی ہےاور تمتع کے ذریعے مجھے بہت سہولت ہوگی ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم کی بیوہ اور دیگر ورثاء برضا و خوشی ترکہ میں سے کچھ رقم مختص کر کے سائل کو مرحوم کی بیوہ کے ساتھ حج ِبدل کےلئے بھیجتے ہیں اور اسے حجِ تمتع کی اجازت بھی دیتے ہیں توان شاء اللہ تعالیٰ مرحوم کی طرف سے حج کرنا جائز ہو گا اور اسے اس کا مکمل اجر بھی ملے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر : (وبشرط الأمر به) أي بالحج عنه (فلا يجوز حج الغير بغير إذنه إلا إذا حج) أو أحج (الوارث عن مورثه) اھ
و فی الرد : ففی مناسك السروجي: لو مات رجل بعد وجوب الحج ولم يوص به فحج رجل عنه أو حج عن أبيه أو أمه عن حجة الإسلام من غير وصية قال أبو حنيفة: يجزيه إن شاء الله، وبعد الوصية يجزيه من غير المشيئة اهـ ثم أعاد في شرح اللباب المسألة في محل آخر و قال: فلوحج عنه الوارث أو أجنبي يجزيه وتسقط عنه حجة الإسلام إن شاء الله تعالى لأنه إيصال للثواب اھ (2/599)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29105کی تصدیق کریں
0     775
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات