نوکری کی وجہ سے میں جدہ میں رہتا ہوں ، اور اس سال حج کی ادائیگی کے لیے جارہا ہوں، میں حجِ افراد کروں گا جو سات دنوں میں ہوگا، اور دس ذو الحجہ کو قربانی کروں گا، میرا سوال ناخن اور بال کاٹنے کے حوالے سے ہے، میں سات ذو الحجہ کو احرام پہنوں گا ، تو کیا مجھے ناخن اور بال اسی دن کاٹنے ہو ں گے یایکم ذو الجہ سے پہلے ؟
سائل کے لیے اس صورت میں بھی مستحب یہی ہے کہ یکم ذو الحجہ سے پہلے بال اور ناخن کاٹ لے ،اور پھر اس کے بعد بقرۂ عید کی نماز کے بعد قربانی کر کے بال کتروائے اور ناخن وغیرہ کاٹ لے۔
کما فی مشکوٰۃالمصابیح: وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا» وَفِي رِوَايَةٍ «فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا» وَفِي رِوَايَةٍ «مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ» . رَوَاهُ مُسلم اھ(1/458)۔
و فی الشامیۃ : مطلب في إزالة الشعر والظفر في عشر ذي الحج[خاتمة] قال في شرح المنية: وفي المضمرات عن ابن المبارك في تقليم الأظفار وحلق الرأس في العشر أي عشر ذي الحجة قال لا تؤخر السنة وقد ورد ذلك ولا يجب التأخير اهـ ومما ورد في صحيح مسلم قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «إذا دخل العشر وأراد بعضكم أن يضحي فلا يأخذن شعرا ولا يقلمن ظفرا» فهذا محمول على الندب دون الوجوب بالإجماع، اھ (2/181)۔