احکام حج

کیامرحوم کی طرف سے مکہ کے طلبہ سے حج کروانا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
29317
| تاریخ :
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

کیامرحوم کی طرف سے مکہ کے طلبہ سے حج کروانا جائز ہے؟

میرے والد وفات پاگئے ہیں تو ان کے لئے ہم حج ادا کرنا چاہتے ہیں،مکہ شہر میں کچھ مدرسے کے شاگرد ہیں،جن کو اگر رہنے سہنے کا خرچ دیا جائے تو وہ آپ کے لئے حج ادا کر دیتے ہیں، کیا ایسا کرنے سے حج ادا ہوجائے گا،ہمارے والدِ مرحوم کے حق میں؟ یا پاکستان سے لازمی جانا پڑے گا؟
وضاحت: والد صاحب کے ذمہ حجِ فرض تھا،لیکن انہوں نے ادا نہیں کیا اور اس کے متعلق کوئی وصیت بھی نہیں کی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ وضاحت کی روشنی میں سائل پر یا دیگر ورثاء پر مرحوم کی طرف سے خود حج کرنا یا دوسرے سے حج کروانا شرعاً لازم نہیں،تاہم اگر کوئی وارث اپنی دلی خوشی سے مرحوم کے فرض حج کی طرف سے حج ادا کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ مرحوم کے ذمہ سے فریضہ ساقط ہوجائے گا، لیکن اس صورت میں مکہ میں رہائشی طلبہ سے حج کرانا کافی نہیں،بلکہ پاکستان سے کرانا ضروری ہے۔
اور اگر صرف ایصالِ ثواب مقصود ہو تو پھر مکہ میں رہائشی طلبہ سے بھی حج کرایا جاسکتا ہے،بہر دو صورت یہ وارث کی طرف سے احسان اور باعثِ اجر وثواب ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیة: من عليه الحج إذا مات قبل أدائه فإن مات عن غير وصية يأثم بلا خلاف وإن أحب الوارث أن يحج عنه حج وأرجو أن يجزئه ذلك إن شاء الله تعالى، كذا ذكر أبو حنيفة - رحمه الله تعالى –اھ(1/258)۔
وفی الشامیة: الحادي عشر أن يحج عنه من وطنه إن اتسع الثلث و إلا فمن حيث يبلغ كما سيأتي بيانه اھ(2/600)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29317کی تصدیق کریں
0     726
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات