ایک آدمی کو حج میں منیٰ میں غسل واجب ہوا، اس نے غسل کی حالت میں شیطان کو کنکریاں بھی ماریں، ذبیحہ بھی کیا ، احرام بھی کھولا ، تو کیا اس پر دم لازم آتا ہے یا نہیں ؟
حج میں افضل اور بہتر یہ ہے کہ حج کے تمام افعال پاکی کی حالت میں باوضو ہو کر ادا کیے جائیں ، لیکن اگر کسی آدمی نے حالتِ جنابت میں شیطان کو کنکریاں ماریں یا ذبیحہ ناپاکی کی حالت میں کیا اور اس کے بعد حلق کر کے احرام کھولا تو اسکی وجہ سے اسپر کوئی دم لازم نہیں ، اس لئے شخصِ مذکور پر ناپاکی کی حالت میں ان افعال کے کرنے کی وجہ سےکوئی دم لازم نہیں ۔
کما فی الہدایۃ : وإذا حاضت المرأة عند الإحرام اغتسلت وأحرمت وصنعت كما يصنعه الحاج غير أنها لا تطوف بالبيت حتى تطهر " لحديث عائشة رضي الله عنها حين حاضت بسرف ولأن الطواف في المسجد والوقوف في المفازة وهذا الاغتسال للإحرام لا للصلاة فيكون مفيدا اھ (1/154)۔