السلام علیکم! سوال یہ ہے کہ بعد از دفن کیا قبر پر تلقین کے نام پر قرآن کی مخصوص آیات پڑھنا قرآن و سنت سے ثابت ہے؟ اگر ہاں! تو برائے کرم حوالہ بھی لکھ دیں؟ اور کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ جو بات تیرے دل میں وسوسہ ڈالے وہ چھوڑ دو؟ اور کیا اللہ تعالیٰ ہی ہر جگہ موجود ہے؟ برائے مہربانی ان سوالات کے جواب جلد عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً!، عبداللہ بن عبد الحفیظ
(۱) دفن کے بعد قبر کے سرہانے سورۃ بقرہ کی ابتدائی آیات ’’مُفلِحُون‘‘ تک اور پائنتی جانب سورۃ بقرہ کی آخری آیات ’’آمن الرسول‘‘ سے ختم سورۃ تک پڑھنا ایک مستحب عمل ہے جو کہ احادیث سے ثابت ہے۔
(۲) جی ہاں یہ صحیح حدیث ہے اور بہت سی کتبِ حدیث میں یہ روایت مذکور ہے۔
(۳) اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہیں اور یہ صفت صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، البتہ انسانوں کی طرح وجود حسی نہیں، جسے دنیا میں ہر کوئی دیکھ سکے۔
فی شعب الایمان للبیہقی: عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سمعت النبیﷺ یقول إذا مات احدکم فلا تحبسوہ، واسرعوا بہ إلٰی قبرہٖ والیقرأ عند رأسہٖ فاتحۃ الکتاب وعند رجلیہ بخاتمۃ البقرۃ فی قبرہٖ. (۷/ ۷۱۶)
وفی الدر المختار: ویستحب حثیہ من قبل رأسہ ثلاثا وجلوس ساعۃ بعد دفنہٖ لدعاء، وقراءۃ بقدر ما ینحر الجزور ویفرق لحمہٗ (۲/ ۲۳۴)
فی الصحیح للبخاری: وقال حسان بن ابی سنان ما رأیت شیئًا اہون من الورع دع ما یریبک إلی مالا یریبک (۱/ ۱۱۷)
وفی جامع الترمذی: قال قلت للحسن بن علی: ما حفظت من رسول اللہ ﷺ دع ما یریبک إلی ما لا یریبک فإن الصدق طمانیۃ وإن الکذب ریبۃ وفی الحدیث قصۃ ہذا حدیث صحیح (۲/ ۲۳۰)
قال اللہ تعالٰی: ﴿الم تر ان اللہ یعلم ما فی السّموات وما فی الارض ط ما یکون من نجوٰی ثلٰثۃ إلا ہو رابعہم ولا خمسۃ إلا ہو سادسہم ولا أدنٰی من ذلک ولا اکثر إلا ہو معہم أین ما کانوا، ثم ینبئہم بما عملوا یوم القیامۃِ إن اللہ بکل شیئ علیم. (المجادلۃ: ۱۷) واللہ اعلم