میرے ایک دوست نے بینک سے قرض لیا، جو کہ غیر مسلم کا ہے ، مگر واپس نہیں کیے، کیا وہ پیسے حلال ہیں یا حرام ؟ کیونکہ اس کی نوکری چلی گئی ہے، اور وہ واپس پاکستان چلا گیا ہے، اور اس نے ان پیسوں سے گھر لے لیا ہے ۔
اگر مذکور بینک نے سائل کے دوست کو سودی قرض دیا ہو ( جس کی صورتیں آج کل سودی بینکوں میں رائج ہیں) تب تو ان پیسوں کا لینا اس کے لئے جائز نہ تھا، اور اس پر لازم ہے کہ جلد از جلد وہ رقم بینک کو واپس لوٹا دے، اور اگر ایسی صور تحال نہ ہو تو پھر اس قرض کا لینا جائز ہے، اور اسے اپنی ضروریات میں استعمال بھی کر سکتا ہے، لیکن اصل قرض کو واپس کرنا ہر حال میں لازم ہے۔
ففي احكام القرآن للجصاص: فمن الربا ما هو بيع ومنه ماليس ببيع وھو ربا اھل الجاهلية وهو القرض المشروط فيه الأجل وزيادة مال على المستقرض اھ (۱/469)-
وفي الدر : في الاشباه: كل قرض جر نفعاً حرام ۔
وفي الرد تحت هذا: أی اذا كان مشروطا اھ (۵/166)۔
وفي فقه البيوع: فما أخذه المرابي زيادة على القرض فهو في حكم الغصب والرشوة اھ (ص: 1060)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0