میں ابو ظہبی میں رہتا ہوں اور میرا آفس دبئی میں ہے جو تقریباً 120 کلو میٹر ابو ظہبی سے دور پڑتا ہے، میں روزانہ ابوظہبی سے سفرکرکے دبئی جاتا ہوں اور شام کو ابوظہبی واپس آتا ہوں، تو کیا میں دبئی میں قصر نماز پڑھوں گا؟
اگر سائل ملازمت اختیار کرنے کے بعد ملازمت کی جگہ (دبئی) میں ایک بار بھی پندرہ دن یا اس سے زائد ایام ٹھہرنے کی نیت کرچکا ہو، اگرچہ عملاً پورے پندرہ دن قیام کا موقع نہ ملا ہو تو اس صورت میں وہ جائےِملازمت (دبئی) اس کےلئے وطنِ اقامت بن گیا، لہذا سائل اپنی اس ملازمت کی جگہ (دبئی) میں جب تک وہاں ملازمت کرتا رہے گا اور وہاں اس کی رہائش اورضروری ساز و سامان رہے گا تو چار رکعت والی نماز پوری پڑھے گا، البتہ راستے میں آتے جاتے وہ قصر نماز ہی پڑھے گا۔
كما في الفتاوى الهندية: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أوقرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية. (139/1)-
وفي البحر الرائق: كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر الف.دار الكتاب الاسلامي (147/2)-
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4