قابلِ احترام مفتی صاحب السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ، میں انہیں بہت زیادہ یاد کرتا ہوں اور ان کے لئے ہر نماز میں دعا کرتا ہوں اور ہر جمعہ ان کی قبر پر زیارت کیلئے جاتا ہوں، برائے مہربانی یہ بتائیں کہ ہر جمعہ ان کی قبر پر جانا میرے لئے فائدہ مند ہوگا، قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں۔
جی ہاں! سائل کا مذکور طریقے سے ہر جمعہ والدِ مرحوم کی قبر پر جاتے ہوئے کچھ پڑھ کہ ایصالِ ثواب کرنا اور ان کی مغفرت کی دعا کرنا یقیناً مفید ہے، بشرطیکہ اس کو لازم نہ سمجھے، بلکہ ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعہ یا جمعرات کے دن زیارتِ قبور کیلئے جانا ایک مستحب عمل ہے، جس کا اہتمام کرنا چاہیے۔
كمافي الترغيب والترهيب: وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إنی نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها فإن فیها عبرة ۔ رواه أحمد اھ (4/ 189)
وفي بذل المجهود: عن أبي هريرة قال: أتى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قبر أمه، فبكى وأبكى من حوله، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "استأذنت ربي تعالى على أن أستغفر لها، فلم يأذن لي، فاستأذنت أن أزور قبرها، فأذن لي، فزوروا القبور فإنها تذكر بالموت ۔ اھ (10/ 524)
وفي الشامية: [مطلب فی زيارة القبور] (قوله وبزيارة القبور) أي لا بأس بها، بل تندب (إلى قوله) فقد قال محمد بن واسع: الموتى يعلمون بزوارهم يوم الجمعة ويوما قبله ويوما بعده، فتحصل أن يوم الجمعة أفضل. اهـ. (2/ 242)