جناب ہم کراچی سے ہنڈی/ حوالہ کرنے کا کام کرتے ہیں، 5000 روپیہ دینے والے سے 100 روپے کے حساب سے 10000 سے 200، 50000 سے 500 اور 100000 سے 1000 روپے لیتے ہیں، بینک سے فی ٹرانسفر 70 روپے خرچ آتا ہے اور بینک 41 کلو میٹر دور ہے، کسٹمر سے فیس ہم کم لیتے ہیں جبکہ ایزی پیسہ وغیرہ سے خرچہ اس سے زیادہ آتا ہے، کیا یہ کام جائز ہے یا نہیں ؟۔
واضح ہو کہ ہنڈی کا کاروبار دوشرطوں کے ساتھ جائز ہے،پہلی یہ ہے کہ اس کاروبار کی قانوناً اجازت ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ مجلسِ عقد میں دونوں فریقین میں سے کوئی ایک اپنی رقم پر قبضہ کرلے، لہذا سائل کے کاروبار میں اگر یہ شرطیں پائی جائیں تو جائز ہے ورنہ نہیں۔
کمافی الدرالمختار: (باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز) وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز لما مر الخ (5/179)۔
و فیہ ایضاً: (ومن دعاه الإمام إلى ذلك) أي قتالهم (افترض عليه إجابته) لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض فكيف فيما هو طاعة بدائع الخ (4/264)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله: افترض عليه إجابته) والأصل فيه قوله تعالى {وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال - صلى الله عليه وسلم - «اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع» وروي «مجدع» وعن ابن عمر أنه - عليه الصلاة والسلام – قال «عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم ما لم يأمركم بمنكر» ففي المنكر لا سمع ولا طاعة الخ(4/264)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0