یہ مسئلہ میری ایک دوست کا ہے ، اس کے گھر کے مالی حالات کچھ خاص اچھے نہیں ہیں،بڑی مشکل سے اسکی تعلیم کا خرچہ پورا ہوتا ہے ، کچھ ماہ قبل اس کی نانی کے گھر کا بٹوار ہ ہوا ،جسکے نتیجے میں میری دوست کی والدہ کے پاس ایک کثیر رقم آئی،اس لیے انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کریں گی ، اس ضمن میں اسکی والدہ میری دوست کو اپنے ساتھ حج پر لے جانے پر اصرار کر رہی ہیں ، جبکہ میری دوست چاہتی ہے کہ وہ ابھی حج پر نہ جائے ،اور اگر اسکو اسکی امی ان پیسوں میں سے کچھ رقم دیناچاہیں تو وہ اس کو اپنی تعلیم میں خرچ کریں گی ،مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ اس صورتحال میں اپنی امی کے ساتھ حج پرجانے سے انکار کر سکتی ہے ؟ کیا وہ انکار کرنے سے گناہ گار ہوگی؟ کیونکہ حج بھی ایک اہم فریضہ ہے،واضح رہے کہ میری دوست کی تعلیم کا خرچہ اکثر قرضوں کی رقم سے پورا ہوتا ہے۔
سائلہ کی دوست کے پاس اگر حج پر آنے جانے کے اخراجات ہوں تو اس پر حج فرض ہے ، تاہم اگر کوئی وقتی عذر ہو تو سائلہ کی سہیلی اپنی والدہ کے ساتھ حج پر جانے سے انکار کر سکتی ہے ، اور اس پر وہ اللہ کے ہاں گناہ گار بھی نہیں ہوگی ،مگر اس سال اگر محرم میّسر ہو تو بلاوجہ والدہ کی بات کو نہ ٹھکرائے ،نہ جانے بعد میں ایسی سہولت میسر ہو یا نہ ہو۔
کما فی الشامیۃتحت : (قوله ولو وهب الأب لابنه إلخ) وكذا عكسه وحيث لا يجب قبوله مع أنه لا يمن أحدهما على الآخر يعلم حكم الأجنبي بالأولى ومراده إفادة أن القادر على الزاد والراحلة لا بد فيها من الملك دون الإباحة والعارية كما قدمناه اھ (2/461)۔
و فی الہندیة: (ومنها القدرة على الزاد والراحلة) بطريق الملك أو الإجارة دون الإعارة والإباحة سواء كانت الإباحة من جهة من لا منة له عليه كالوالدين والمولودين أو من غيرهم كالأجانب كذا في السراج الوهاج، ولو وهب له مال ليحج به لا يجب عليه قبوله سواء كان الواهب ممن تعتبر منته كالأجانب أو لا تعتبر كالأبوين والمولودين كذا في فتح القدير وتفسير ملك الزاد والراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، وهو ما سوى مسكنه ولبسه وخدمه، اھ (1/217)۔