السلام علیکم ! ایک مسئلہ کے بارے دریافت کرنا ہے، یہ بتائیں کہ اگر کسی شخص کے پاس زندگی میں ایک بار اتنی رقم آگئی ہو جس سے وہ سفر ِحج کر سکے اور وہ شوال، ذی قعدہ میں بھی رقم موجود ہو، وہ صاحب صحت بھی رکھتے ہوں جانے کی، تو کیا ان پر حج فرض ہو جائے گا ؟ اس بات کو گزرے کچھ 8 سال ہو گئے ہیں،اب ان کی خواہش ہے کہ حج کریں لیکن وہ کچھ مقروض بھی ہیں اپنا گھر بنانے کے لیے قرض لیا تھا کچھ ابھی واجب الادا ہے ،وہ حج پرائیویٹ ٹریول کے تھرو کرنا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں وہ کچھ رقم اپنے بھائی سے بطورِ قرض بھی لیں گے تقریباً (٪40) اس صورت میں حج کرنا کیسا ہے اور کیا جائز ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں شخص مذکور کے ذمہ حج اداکرنا فرض ہے اس کا قرض لےکر حج کی ادائیگی کرنا جائز اور درست ہے ۔
کما فی الہندیة : إذا أراد الرجل أن يحج بمال حلال فيه شبهة فإنه يستدين للحج ويقضي دينه من ماله كذا في فتاوى قاضي خان في المقطعات اھ (1/220)۔
و فی الدر : وقالوا لو لم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذلك، أي لو ناويا وفاء إذا قدر اھ (2/457)۔
و فی الرد تحت : (قوله وسعه أن يستقرض إلخ) أي جاز له ذلك وقيل يلزمه الاستقراض كما في لباب المناسك قال منلا على القاري في شرحه عليه، وهو رواية عن أبي يوسف وضعفه ظاهر فإن تحمل حقوق الله تعالى أخف من ثقل حقوق العباد اهـ (2/457)۔