احکام حج

حج بدل کا حکم

فتوی نمبر :
3201
| تاریخ :
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج بدل کا حکم

السلام علیکم !
اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے حجِ بدل ادا کرے تو کیا جب اس بندے پر اپنا حج فرض ہو تو کیا اس کو دوبارہ کرنا ہوگا؟ یا اس کا بھی فرض ادا ہوجائے گا؟(2)اور کس کس وجہ سے حجِ بدل کروایا جاسکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی کی طرف سے حجِ بدل کرنے سے اپنا حج ادا نہیں ہوتا، اسی لئے افضل اور بہتر یہ ہے کہ حجِ بدل اس شخص سے کرایا جائے جو اپنا حجِ فرض ادا کرچکا ہو،البتہ حجِ بدل کے لئے جانے والے شخص نے اگر اپنا فرض حج ادا نہ کیا ہو اور وہ صاحبِ استطاعت بھی ہو تو بعد میں اپنے فرض حج کیلئے جانا اور اس کا ادا کرنا اس پر شرعاً لازم ہوگا، جبکہ حجِ بدل کی متعدد صورتیں ہیں،ایک یہ ہے کہ صاحبِ وسعت ہونے کے بعد اور حج کا موقع پانے سے پہلے انتقال ہوگیا،دوسری صورت یہ ہے کہ ارادۂ حج سے نکلا اور راستہ میں کسی نے اسے قید کرلیا یا زبردستی مکہ معظمہ جانے سے روک دیا، تیسری صورت یہ کہ کوئی ایسا مرض پیش آگیا جس سے صحت کی امید نہیں یا بڑھاپے کا ضعف ایسا ہوگیا کہ خود سواری پر سوار نہیں ہوسکتا،چوتھی صورت یہ ہے کہ راستہ مامون نہیں رہا، سفر سے جان ومال کا اندیشہ ہو، پانچویں صورت خاص عورتوں کے لئے یہ ہے کہ کوئی ایسا محرم ساتھ جانے کے لئے میسر نہ ہو،ان سب صورتوں میں اس کو معذور سمجھا جائے گا، بشرطیکہ یہ عذر موت تک مسلسل جاری رہے، اب اگر ان میں سے کسی عذر کے تحقق کے بعد وہ وصیت کردے تو اس کے مال سے اور وصیت نہ کرنے کی صورت میں اگر ورثاء چاہیں تو مرحوم کے لئے اپنے ذاتی مال سے بھی حجِ بدل کرواسکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار:(هذا) أي اشتراط دوام العجز إلى الموت (إذا كان) العجز كالحبس و (المرض يرجى زواله) أي يمكن الخ
وفی الشامیة: تعلیل اشتراط دوام العجز الیٰ الموت ای فیعتبر فیه عجز مستوعب البقیة العمر لیقع به الیأس عن الاداء بالبدن اھ(2/596)۔
وفی الفتاوی التاتارخانیة: والافضل للانسان اذا اراد ان یحج رجلا عن نفسه ان یحج رجلاً قد حج عن نفسه فان الذی لم یحج عن حجة الاسلام عن نفسه،لم یجز حجته عن غیرہ عند بعض الناس ومع ھذا لو احج رجلاً لم یحج عن نفسه حجة الاسلام یجوز عندنا وسقط الحج عن الآمر اھ(2/546)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3201کی تصدیق کریں
0     1070
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات