احکام حج

مالِ مخلوط سےزکوٰۃ و حج کا حکم

فتوی نمبر :
32416
| تاریخ :
2017-12-23
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

مالِ مخلوط سےزکوٰۃ و حج کا حکم

اگر کسی کے پاس حلال و حرام مال ملا ہوا ہے اور وہ حج ،زکوٰۃ یا صدقہ کرنا چاہتا ہے اس نیت سے کہ وہ حلال مال سے یہ حج یا صدقہ کر رہا ہے ،تو کیا صدقہ یا حج قبول ہوگا یا نہیں؟ اگر اس کی کمائی حرام کے ساتھ ملی ہوئی ہے؟ اور مال کا کچھ حصہ حرام ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر مخلوط مال میں حلال غالب ہو یا دونوں برابر ہوں اور حرام متعین طور پر معلوم نہ ہو تو اس کے ذریعہ حج وغیرہ دیگر عبادات درست ادا ہو جائیں گی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الرد : من ملك أموالا غير طيبة أو غصب أموالا وخلطها ملكها بالخلط ويصير ضامنا، وإن لم يكن له سواها نصاب فلا زكاة عليه فی ها وإن بلغت نصابا؛ لأنه مديون ومال المديون لا ينعقد سببا لوجوب الزكاة عندنااهـ. (2/291)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 32416کی تصدیق کریں
0     791
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات