اگر کسی کے پاس حلال و حرام مال ملا ہوا ہے اور وہ حج ،زکوٰۃ یا صدقہ کرنا چاہتا ہے اس نیت سے کہ وہ حلال مال سے یہ حج یا صدقہ کر رہا ہے ،تو کیا صدقہ یا حج قبول ہوگا یا نہیں؟ اگر اس کی کمائی حرام کے ساتھ ملی ہوئی ہے؟ اور مال کا کچھ حصہ حرام ہے؟
اگر مخلوط مال میں حلال غالب ہو یا دونوں برابر ہوں اور حرام متعین طور پر معلوم نہ ہو تو اس کے ذریعہ حج وغیرہ دیگر عبادات درست ادا ہو جائیں گی ۔
کما فی الرد : من ملك أموالا غير طيبة أو غصب أموالا وخلطها ملكها بالخلط ويصير ضامنا، وإن لم يكن له سواها نصاب فلا زكاة عليه فی ها وإن بلغت نصابا؛ لأنه مديون ومال المديون لا ينعقد سببا لوجوب الزكاة عندنااهـ. (2/291)۔