السلام علیکم ! میں علماء ِکرام سے معلوم کرنا چاہتی ہوں، ميری امی جن کی عمر (57) سال ہے ، حج پر جانے کی شدید خواہش رکھتی ہیں ، شوہر کا انتقال ہو گیا ہے ، محرم میں ایک بیٹا اور داماد ہیں، بھائی اور والد بھی حیات ہیں، بیٹا(25) سال کا ہے مگر کوئی کام نہیں کرتا، امی کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ صرف اپنا انتظام کر سکتی ہیں،ایسی صورت میں کیا میری امی اپنے داماد کے ساتھ حج ادا کرنے جا سکتی ہیں؟ شریعت کیا حکم دیتی ہے ؟
جی ہاں!سائلہ کی والدہ سوال میں مذکور عمر میں اپنے داماد کے ساتھ سفر حج پر جا سکتی ہیں، بشرطیکہ فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
کما فی الشامیۃ تحت : (قوله ومع زوج أو محرم) هذا وقوله ومع عدم عدة عليها شرطان مختصان بالمرأة فلذا قال لامرأة وما قبلهما من الشروط مشترك والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو صهرية كما في التحفة اھ (2/464)۔