میرا نقش و نگار سیٹ اپ ہے ، میں دھاگہ خریدتا ہوں مارکیٹ سے ، وہ مجھے ادائیگی کے لئے دو مہینے کی مہلت دیتے ہیں، لیکن اگر میں پہلے ادائیگی کروں ،وہ مجھے ہر ریل پر چالیس کا ڈسکاونٹ دیتے ہیں، میرا سوال یہ ہے کیا میں دو مہینے کا ڈسکاؤنٹ لے سکتا ہوں ؟ کیا یہ حلال ہے یا سود ہے ؟
ادھار لین دین میں ایک دفعہ قیمت طے ہو جانے کے بعد مقررّہ وقت سے پہلے رقم کی ادائیگی کی صورت میں قیمت کے اندر کمی کی شرط لگانا جائز نہیں، البتہ اگر بائع اپنی مرضی سے پوری قیمت میں سے کچھ کم کر کے لے، تو اس کا اسے اختیار ہے، اور یہ شرعاً بھی جائز ہے ۔
كما في الهداية شرح البداية: ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز لأن المعجل خر من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام اھ (3/ 197)۔
وفي قضايا فقهية معاصرة : ورجح جمهور الفقهاء جانب الحرمة ، لان زيادة الدين في مقابلة التأجيل ربا صراح ، فكذلك الحط من الدين باذاء التحجيل في معناه اھ (۱/ ۲۶)۔
وفيه أيضا: إذا كان عليد بن مؤهل فعال لفريمه واضح غنى بعضه والعمل لك بقيه. لم یجز اھ (۱/ ۲۸)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0