میں جدہ میں رہتا ہوں ,آفس کے کام سے اکثر مکہ (عرفات) جاتا ہوتا ہوں، کام کبھی جلدی ختم ہو جاتا ہے کبھی دیر سے , اس لئے میں ظہر کی نماز قصر اور اس کےساتھ عصر کی نماز بھی قصر پڑھ لیتا ہوں کہ جدہ واپسی میں رہ نہ جائے، لیکن اگر عصر کا وقت کبھی مل جائے تو کیا عصر دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
واضح ہو کہ احناف کے ہاں ایامِ حج کے علاوہ کسی اور موقع پر دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا جائز نہیں، لہذا اسائل پر لازم ہے کہ ظہر کی نماز اپنے وقت پر اور عصر کی نماز اپنے وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرے۔
ففي الدر المختار: ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر سفر ومطر خلافا للشافعي، وما رواه محمول على الجمع فعلا لا وقتا(فإن جمع فسد لو قدم) الفرض على وقته (وحرم لو عكس) أي أخره عنه وإن صح بطريق القضاء إلا لحاج بعرفة ومزدلفة كما سيجيء اھ(ج ۱ ص ۳۸۱)۔
وفي الشامية: تحت :( قوله فإن جمع إلخ) تفصيل أجمله أولا بقوله: ولا جمع الصادق بالفساد أو الحرمة فقط ط (قوله: إلا لحاج) استثناء من قوله ولا جمع ط. (قوله: بعرفة )بشرط الإحرام والسلطان أو نائبه والجماعة في الصلاتين، ولا يشترط كل ذلك في جمع المزدلفة ط. قلت: إلا الإحرام على أحد القولين فيه.اھـ(ج ۱ ص ۳۸۲)-
وفي بدائع الصنائع: (ومنها الوقت لأن الوقت كما هو سبب لوجوب الصلاة فهو شرط لأدائها، قال الله تعالى: {إن الصلاة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا [النساء: 103] ، أي فرضا مؤقتا حتى لا يجوز أداء الفرض قبل وقته إلا صلاةالعصر يوم عرفة على ما يذكر اھ (ج ۱ ص (۱۲۱) -
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4