ترجمہ : السلام علیکم ! شادی سے پہلے میں گناہ میں مبتلا تھا ، جو کہ مستقل طور پر مذی کے قطرات آنے کا سبب بن چکا ہے ، نماز سے پہلے جب مجھے یقین ہو جائے کہ قطرے آنا بند ہو گئے ، تو پھر میں وضو بنا کر نماز پڑھ لیتا ہوں ، اب یہاں دو پہلو ہیں ، (1) اگر میں گھر پر ہوں تو میں نماز کے بعد چیک کر لیتا ہوں ، اگر دورانِ نماز دوبارہ قطرے آئے ہیں ، تو میں فی الفور دوبارہ وضو کر کے نماز کا اعادہ کر لیتا ہوں(2) اور جب میں گھر سے باہر آفس وغیرہ میں ہوں تو میں یہ چیک نہیں کر سکتا کہ میرا وضو ہے یا قطرے آنے کی وجہ سے ٹوٹ چکا ہے ، میں یہ خیال کرتا ہوں کہ میر ا وضو نہیں ٹوٹا تاکہ مزید شکوک و شبہات میں نہ پڑوں اور میں اس نماز کا اعادہ بھی نہیں کرتا اور یہ مجھے نہیں معلوم کہ دوسری صورت حال کے مطابق میں نے کتنی نمازیں ادا کی ہیں ، بلکہ اندازے کے مطابق 28 ماہ سے اس کیفیت میں مبتلا ہوں ، اب مذکورہ بالا صورت حال میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر مزید کوئی معلومات درکار ہوں تو مجھے بتائیں ۔ جزاک اللہ۔
سوال میں مذکور صورتِ حال میں جب تک سائل کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ دورانِ نماز قطرے آنے کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹ چکا ہے ، تو محض وہم کیوجہ سے اس کی نمازوں کے فاسد ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا ، تاہم دورانِ نماز جب اس طرح کی کوئی کیفیت محسوس ہو کہ جس سے قطرے آنے کا یقین ہو جائے ، تو ایسی صورت میں علیحدہ ہو کر جسم اور کپڑوں کے ناپاک حصے کو دھو کر دو بارہ وضو کرکے نماز کا اعادہ لازم ہے۔
كما في قواعد الفقه : الاصل ان ما ثبت باليقين لا يزول بالشك اھ
و تحته : أن من شك في الحدث بعد ماتيقن بالوضوء فهوعلى وضوئه مالم یتیقن بالحدث اھ (اصول الكرخي) (ص/11)۔
دورانِ نماز قرأت میں کوئی ایسی غلطی سرزد ہوجائے جس سے معنی بالکل بگڑ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی؟
یونیکوڈ مفسدات نماز 0