سوال : کیا فرماتے ہیں علماء اس بارے میں کہ ایک شخص کہتا ہے ’’میرا یہ عقیدہ ہے کہ نبی عام انسانوں کی طرح دیکھتے اور سنتے ہیں، البتہ الله بطور معجزہ کچھ اضافي دکھا دے یا سنادے تو انکار نہیں، مگر اس کا ثبوت ہونا چاہیے،یہ عبارت کہاں تک درست ہے اور اس کے کہنے والے پر کیا حکم ہو گا؟
نبی کریمﷺ بھی انسان کامل اور افضل البشر ہیں اور انسان ہونے کے ناطے فی نفسہ آپ ﷺبھی دیکھنے اور سننے کی صفت رکھتے تھے۔ جیسے دوسرےانسان رکھتے ہیں، مگر آپ ﷺ عام انسانوں سے بڑھ کر ایک نبی ہونے کی حیثیت سے عام انسانوں سے بدرجہا بڑامقام رکھتے تھے ، اس لیے آپ ﷺکی تمام صلاحیتیں عام انسانوں سے بڑھ کر تھیں، اور عام انسانوں کے ساتھ محض ظاہری مشابہت تھی ، لہٰذا خالی الذھن ہو کر اس ظاہری مشابہت کی بناء پر اگر سوال میںمذکورجملے استعمال کیے جائیں تو اس میں حرج نہیں ۔
قال اللہ تعالیٰ: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم ۔ ‘‘ (السجدۃ:۶)۔
وقال تعالی: قَالُوا مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا۔ ‘‘ (یس:۱۵) واللہ أعلم!
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0