کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو لوگ مرنے کے بعد جلا دیئے جاتے ہیں یا سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں اسی طرح درندے ان کو کھا لیتے ہیں تو ان کو عذاب ِقبر کس طرح ہوتا ہے اور جو فرقہ عذابِ قبر کے منکر ہو اس کے متعلق کیا رائے ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
جملہ اہلِ سنت و الجماعت اس عقیدہ پر متفق ہیں کہ قبر اور برزخ میں اہلِ ایمان اور اصحابِ طاعات کو لذت و سرور نصیب ہوتا ہے جبکہ کفار و منافقین اور گناہ گاروں کو عذاب و تکلیف حاصل ہوتی ہے اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، قرآن وسنت اور اجماعِ اُمت کے صریح دلائل کے پیشِ نظر یہ عقیدہ اتنا مضبوط ہے کہ حضرات فقہاءِ کرام کا ذمہ دار گروہ عذابِ قبر کے منکر کو کافر کہتا ہے۔ ( تسکین الصدورص:۸۲)۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرنے کے بعد آدمی جہاں بھی ہو اس کے اجزائے بدن سے بلاشبہ روح کا تعلق رہتا ہے گو نیکوں کی روحیں علیین میں ہوتی ہیں اور بدوں کی سجین میں، خواہ کسی کو قبر میں دفن کریں خواہ جلادیں، خواہ وہ ڈوب جائے ، ذرے ذرے کے ساتھ روح کا تعلق ( بالاترازفہم) رہتاہے، اس کی نظیر ایک تارِ برقی ہی کافی ہے، تارِ برقی کا تعلق دیکھیں ، کہاں سے کہاں تک رہتا ہے ایسا ہی روح کا تعلق باوجود علیین یا سجین میں ہونے کے اس کا تعلق ، بدن کے ساتھ بھی ہوتا ہے اورضرور ہوتاہ ے مگر اس کو دنیاکی آنکھیں محسوس نہیں کرسکتیں، کیونکہ عالمِ غیب کے اسرار دنیادار کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں اور نہ ہی دکھایا جانا مناسب ہے، کیونکہ پھر ایمان بالغیب نہیں رہےگا الخ ( بحوالہ تسکین الصدورص:۹۷)۔
لہٰذا جو لوگ عذابِ قبر کے منکر ہیں وہ ان نصوص اور اجماعِ امت کا انکار کرنے کی وجہ سے راہِ حق سے دور اور گمراہ ہیں جن کی بات سننے اور اس پر عمل سے احتراز لازم ہے۔ و اللہ أعلم بالصواب!
ففی فتح القدیر: و لاتجوز الصلوة خلف منکر الشفاعة و الرؤیة و عذاب القبر و الکرام الکاتبین لأنه لتوارث ھذہ الأمور عن الشارع – صلی علیہ وسلم – اھ(۱/۱۴۹)۔
و فی خلاصة الفتاویٰ: و لایجوز الصلوة خلف من ینکر شفاعة النبی - صلى الله عليه وسلم - و ینکر کرام الکاتبین و عذاب القبر و کذا من ینکر الرؤية لانه کافر اھ (۱/۱۴۹)۔
و فی مرقاة المفاتيح: قال العسقلاني في فتاويه: أرواح المؤمنين في عليين، و أرواح الكفار في سجين، و لكل روح بجسدها اتصال معنوي لا يشبه الاتصال في الحياة الدنيا ، بل أشبه شيء به حال النائم، و إن كان هو أشد من حال النائم اتصالا، و بهذا يجمع بين ما ورد أن مقرها في عليين أو سجين و بين ما نقله ابن عبد البر عن الجمهور أنها عند أفنية قبورها. قال: و مع ذلك فهي مأذون لها في التصرف، و تأوي إلى محلها من عليين أو سجين. قال: و إذا نقل الميت من قبر إلى قبر فالاتصال المذكور مستمر و كذا لو تفرقت الأجزاء اھ(3/ 1177)۔
کسی بزرگ کا انتقال کے بعد لوگوں کے پکارنے پر ان کی مدد کےلۓ حاضر ہونا-اور اس کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ احوال قبر 0